19 April 2020 - 20:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442542
فونت
حجت الاسلام حسن روحانی :
ایرانی صدر نے کہا کہ کورونا اسکریننگ کے نئے مرحلے میں ایسے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جو ان لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے جن کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابقانسداد کورونا قومی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران حجت الاسلام حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا اسکریننگ کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا اسکریننگ کے نئے مرحلے میں ایسے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جو ان لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے جن کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

اجلاس میں ملک کے مختلف صوبوں میں کورونا کی صورتحال اور اعداد و شمار کے بارے میں پیش کی جانے والی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پرصدر ایران نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کورونا پر قابو پانے کے مرحلے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے شریف یونیورسٹی کی تیار کردہ کورونا ایپلیکیشن کے بارے میں کہا کہ اس ایپ کے ذریعے وزرات صحت کے فراہم کردہ ڈیٹا کی مدد سے اس بات کا پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ کورونا کے لحاظ سے کون شخص ریڈ ہے اور کون شخص یلو ہے اور انکی نگہداشت ضروری ہے۔

درایں اثنا ایرانی سائنسدانوں کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں ملک میں کورونا وائرس اینٹی باڈی کے لیے مختص ایمیونوگلوبولین کی تیاری کے لیے لازمی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

اینٹی باڈیز ایسے پروٹین ہیں جو جسم کے دفاعی نظام میں، کسی خاص اینٹی جن کے مقابلے میں پیدا ہوتے ہیں اور خون میں گردش کرتے ہیں۔

ایران کے پلازما ٹریٹمنٹ پروجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر حسن ابو القاسمی کے مطابق اس قسم کے اینٹی باڈیز کی تیاری کا نظریہ ایرانی سائنسدانوں کا مخصوص نظریہ ہے جو اس وقت اپنے آخری مرحلے سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ہمیں وزارت صحت کی حتمی توثیق اور فیصلے کا انتظار ہے۔

ایران پلازما ٹریٹمنٹ پروجیکٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ پلازما کو خالص بنانا اور اس کی آسان نگہداشت اس طریقۂ علاج کی اہم ترین خصوصیات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلازما کو اگرچہ منفی بیس ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت میں مخصوص بیگ میں محفوظ رکھا جانا چاہیے لیکن ہم جو اینٹی باڈی پلازما تیار کر رہے ہیں اسے میڈیکل اسٹور میں بھی رکھا جا سکے گا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬