28 May 2020 - 16:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442830
فونت
حجت الاسلام محمد حسن مہدوی مہر :
آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی ادارے کے سربراہ نے کہا :آستان قدس رضوی کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی ایک جیسی تکراری اور متوازی سرگرمیوں کو روکا جائے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی ادارے کے سربراہ حجت الاسلام محمد حسن مہدوی مہر نے علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے اور بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے مقصد سے مختلف اداروں میں ایک ہی جیسی اور تکراری سرگرمیوں کو روکنے اور آپسی تعاون نیز زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا۔

آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے کے سربراہ نے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں یونیورسٹی کے چانسلر حجت الاسلام والمسلمین سید حسن وحدتی شبیری سے ملاقات کی ۔

اس اجلاس میٹنگ میں جس میں علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ اور عہدیداران بھی موجود تھے حجت الاسلام مہدوی مہر نے اپنی تقریر میں آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی ادارے کو پوری طرح علمی وثقافتی ادارہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آستان قدس رضوی کے تمام شعبہ جات اور اس علمی و ثقافتی ادارے کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا اور روابط کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے۔

مختلف شعبوں کے مابین روابط قائم کرنے کی ضرورت

حجت الاسلام مہدوی مہر نے اس بات پر تاکید کی کہ آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے میں؛ میں اور میرے تمام ساتھی اس کوشش میں ہیں کہ آستان قدس رضوی کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی ایک جیسی تکراری اور متوازی سرگرمیوں کو روکا جائے اور بہترین نتائج حاصل کرنے کے مقصد سے آپس میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے ۔

آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ آستان قدس رضوی کے متولی کی ہدایات کی بنا پر اس ادارے کی تمام تر سرگرمیاں آستان قدس رضوی کی ضروریات اور اہداف و مقاصد کے مطابق ہونی چاہئیں۔

انہوں نے بیان کیا ہے کہ آستان قدس رضوی کے تمام شعبوں کو چاہئے کو وہ آستان قدس رضوی کے نئے بنیادی ڈھانچے کو مدّ نظر رکھیں اور ہر کوئی اپنے دائر ہ کار میں رہ کر کام انجام دے اور ساتھ ہی ہمارے ادارے اور دیگر تمام اداروں کے ساتھ ہم آھنگی کو فروغ اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرے ؛ انشاء اللہ ایسا کرنے سے تمام چھپی ہوئی علمی و ثقافتی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں گی اور عملی میدان میں ان کا نفاذ عمل میں لایا جا سکے گا۔

حجت الاسلام مہدوی مہر نے آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے کی ایک اہم ذمہ داری مختلف شعبہ جات کی علمی وثقافتی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا بتایا اور کہا کہ اگر آستان قدس رضوی میں کوئی بھی سرگرمی جاری ہو اور اس پر کسی بھی قسم کے علمی وثقافتی اعتراض ہوں تو اس صورت میں آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اعتراضات اور خامیوں کو دور کرے ،اسی احساس ذمہ داری کی وجہ سے صلاحیتیں اجاگر ہوں گی اور یہ ادارہ مختلف شعبہ جات میں بہترین کردار ادا کرےگا۔ ان اہداف و مقاصد کو پورا کرنے کے لئے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی اور آستان قدس رضوی کے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کو علمی و ثقافتی ادارے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

رضوی یونیورسٹی کو پہلے سے زیادہ حوزہ علمیہ خراسان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے

انہوں نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں اندرونی اور بیرونی تبدیلیاں لانے کے لئے سب سے پہلے ضروریات کا تعین ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی تبدیلی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ آپ یونیورسٹی یا مدرسہ میں ایک نئے مضمون کا اضافہ کریں بلکہ ایسے مضمون یا سبجیکٹ کو حذف کریں جس کو کوئی اختیار نہیں کر رہا ہے یہی اندرونی تبدیلی شمار ہو گی۔ اسی طرح بیرونی تبدیلی کے لئے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کو آستان قدس رضوی کے دیگر تمام شعبہ جات کے ساتھ تعلق اور رابطے کو بھی واضح کرنا ہوگا۔

آستان قدس رضوی کے علمی وثقافتی ادارے کے سربراہ نےعلوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں تعلیمی نظام کے منیجمنٹ کے سبجیکٹ کے شعبہ کے قیام کو ضروری قراردیتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کا ماہر تعلیمی ڈائریکٹروں کی تربیت کے میدان میں بھی آنا ضروری ہے اور اس کام کے لئے وزارت تعلیم اور ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کی اجازت سے تعلیمی نظام کے منیجمنٹ کے سبجیکٹ کو اصولی اور ٹیکنیکل طریقے سے پڑھایا جائے۔

مہدوی مہر نے اس میٹنگ دوران علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے صوبہ خراسان کے حوزہ علمیہ کے ساتھ رابطہ پر بھی زوردیا اور کہا کہ علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کی جو شناخت ہے اسکی وجہ سے حوزہ علمیہ اسے فقط ایک یونیورسٹی کی نگاہ سے نہ دیکھے اور علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کو بھی چاہئے کہ وہ حوزہ علمیہ کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی حیثیت کو بھی محفوظ رکھے۔

اس کے علاوہ حوزہ علمیہ قم اور جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے ساتھ بھی مفید تعلقات قائم کرے۔ورچوئل کالج کا قیام، علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے خواہران یونٹ میں توسیع، طالب علموں کے ہاسٹل اور خوابگاہ کو حرم سے باہر منتقل کرنا،اندرونی سطح پر ہم آہنگی،ایرانی و غیر ایرانی اساتذہ سے استفادہ کرنا ، دینی سیاحت اور ٹورزیم کے مسئلے پر توجہ دینا، آستان قدس رضوی کے مثالی کتابخانہ سے بھرپور فائدہ اٹھانا،طالب علموں کو ان کے سبجیکٹ کے مطابق مہارت دینا اور ان جیسے دیگر امور پر بھی اس میٹنگ میں غورو خوض کیا گيا ۔

اجلاس کی ابتدا میں علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی کے چانسلر حجت الاسلام والمسلمین سید حسن وحدتی شبیری نے یونیورسٹی کی تاریخ اور اس میں پائی جانے والی صلاحیتوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اس کے علاوہ طالب علموں ، پروفیسرز اور اساتذہ کے جو مطالبات تھے انہيں بھی پیش کیا

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں