10 June 2020 - 14:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442916
فونت
دو ہفتے سے امریکی مظلوم کالوں کی حمایت میں ہونیوالے مظاہرے تو ٹریلر ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ان دنوں آنیوالی ٹویٹس دیکھیں، جن میں ظلم کرنیوالی پولیس اور فوج کو شاباش دی جا رہی ہے اور عوام کو دھمکیاں۔

تحریر: ثاقب اکبر

عالمی حقائق تیز رفتاری سے بدل رہے ہیں۔ عالمی قیادت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ متوقع عالمی مراکز ہمارے آس پاس ابھر رہے ہیں۔ جہان نو پیدا ہو رہا ہے۔ پرانے بوسیدہ نظریات اور امریکی ورلڈ آرڈر کے ڈھانچے کی ہڈیاں تڑخنے کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ چند روز پہلے یہ بات کہ چکے ہیں کہ ایشیا کی طرف عالمی قیادت منتقل ہو رہی ہے اور امریکہ اب عالمی قیادت کے امتحان نہیں دے پا رہا۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ کے تمام تر تجزیے کی تائید نہ بھی کی جائے، تب بھی ان کی اس رائے سے اتفاق کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ امریکہ اب عالمی قیادت سے معزول ہو رہا ہے۔ ایشیا میں قیادت کا مرکز چین بنے گا یا کوئی اور؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اس مقابلے سے باہر ہوچکا ہے۔ بھارت کو ذلت کے اس مقام پر پہنچانے میں سب سے بڑا ہاتھ مودی سرکار ہے۔ مودی کو عصر حاضر میں بھارت کا اور ٹرمپ کو امریکہ کا ”گورباچوف“ قرار دیا جاسکتا ہے۔

امریکی قیادت کے زوال کے سائے اسرائیل اور عالم عرب کی ساخت پرداخت پر بھی پڑیںگے۔ مسلم دنیا میں ترکی اور ایران کے ”جذبوں“ کو سب محسوس کرتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ”تلخ دوستی“ کے دنوں سے گزر رہے ہیں۔ ایشیا میں قیادت کا منتقل ہونا تو ناگزیر ہے۔ یہ قیادت طاقت کے مختلف مراکز میں ”تعاون“ کی صورت میں دور تک چل سکے گی یا نہیں، ابھی اس سلسلے میں پیش گوئی بہت ہی قبل از وقت ہوگی۔ دنیا کے کئی ایک ممالک ان حقائق کو سمجھ چکے ہیں اور ان کی روشنی میں نئے فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے فیصلہ ساز ادارے اور دماغ ان حقائق سے ہم آہنگ ہوچکے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے کہ ہمارے ادارے تبدیل شدہ حقائق کو کسی حد تک سمجھتے ہیں، لیکن انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی فی الحال تبدیلی کی رفتار کو کم رکھا جائے بلکہ جہاں ناگزیر نہ ہو، سٹیٹس کو برقرار رکھا جائے۔ اس کی بہت سی وجوہ میں سے ایک غالب بیان کر گئے ہیں:
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی

ہمارے ذہن اور مزاج خاص طرح کی دنیا میں رہنے کے عادی ہیں۔ امریکی ورلڈ آرڈر کے عروج کے زمانے میں ہمارے لوگوں کی جو ٹیوننگ ہوئی تھی، ابھی تک وہ اسی کے مطابق چل رہے ہیں۔ پھر ان اداروں میں بیٹھے بہت سے اہم افراد کے ذاتی مفادات مغربی نظام سے وابستہ ہیں۔ ان کے بچے امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں رہتے ہیں یا زیر تعلیم ہیں۔ پاکستان کی سرکاری جاب کے بعد امریکا اور اس کے آلہ کار حکمرانوں کے ہاں انھیں اپنے مفادات دکھائی دیتے ہیں۔ میں سب کی بات نہیں کر رہا، لیکن فیصلہ ساز مناصب پر موجود سرکاری و سیاسی افراد کا موثر نیٹ ورک ابھی تک ایسے ہی ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو اندازہ نہیں کہ وہ دن دور نہیں جب مغرب میں ان کا اور ان کے بچوں کا رہنا دو بھر ہو جائے گا اور نئے انقلاب سے گزرنے والی پاکستانی قوم بھی انھیں کھلے بازوﺅں سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔ کرونا کے دور میں یہ حقیقت زیادہ ابھر کر سامنے آچکی ہے۔

دو ہفتے سے امریکی مظلوم کالوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے تو ٹریلر ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ان دنوں آنے والی ٹویٹس دیکھیں، جن میں ظلم کرنے والی پولیس اور فوج کو شاباش دی جا رہی ہے اور عوام کو دھمکیاں۔ جب حکمران ایسا کر رہے ہوں تو وہ اپنے ملک کے سیکورٹی سٹیٹ یا پولیس سٹیٹ ہونے کو ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ ”جمہوریت“ کا چہرہ بے نقاب کرنے اور ”انسانی حقوق“ کے نعرے کی حقیقت آشکار کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ پاکستان میں ہم جتنی جلدی فیصلے کر لیں گے اور اپنے آپ کو نئے حقائق سے ہم آہنگ کر لیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اہم اداروں اور وزارت خانوں میں امریکی ورلڈ آرڈر کی ذہنیت کے حامل بوسیدہ، از کار رفتہ لوگوں کو فارغ کرکے نسبتاً نئے جذبوں سے سرشار، حوصلہ مند قیادت کو آگے لانے کی ضرورت ہے، جن کے ذاتی مفادات ابھی امریکا اور اس کے آلہ کاروں سے وابستہ نہ ہوئے ہوں۔

”تبدیلی سرکار“ اگر واقعاً تبدیلی چاہتی ہے تو اسے بھی اہم وزارتیں نسبتاً جوان یا نئے حقائق سے ہم آہنگ قیادت کے حوالے کرنا چاہئیں۔ ابتدا میں چند مفید فیصلے کرنے کے بعد غلط یوٹرن لیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کو خود بھی اپنی اداﺅں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک کا تجزیہ تو یہی بتاتا ہے کہ وہ عالمی اور داخلی حالات کی چومکھی میں ایک ویژنری اور حوصلہ مند قیادت فراہم نہیں کر پائے اور شاید یہ ان کے بس کی بات بھی نہیں۔ پاکستانی عوام اس ساری صورت حال کو ضرور غور سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک عزت دار قوم اپنے ملک کو عزت کے بلند مقام پر پہنچانے کے لیے بالآخر نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں