02 July 2020 - 12:17
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443056
فونت
طارق خوری :
اردن پارلیمنٹ کے نمائندے نے کہا کہ عرب حکمرانوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ صلح پر مبنی مذاکرات نے صورتحال کو آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے پر کمر بستہ ہوگیا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اردن پارلیمنٹ کے نمائندے طارق خوری نے اسرائیلی بربریت اور تسلط پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح مزاحمت کو واحد آپشن قرار دیا ہے۔

اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے نے مغربی پٹی کو مقبوضہ فلسطین سے الحاق کرنے کے اسرائیلی منصوبہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزير اعظم نیتن یاہو کے اس منصوبہ کے خلاف خود اسرائیل کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے کی وجہ سے اردن کو سب سے زيادہ خطرات لاحق ہیں۔

اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے طارق خوری نے مغربی پٹی کے اسرائیل کے ساتھ الحاق اور اس کے اثرات کے بارے میں کہا کہ اردن کا مؤقف اس کے بارے میں واضح ہے اردن اسرائیل کے اس اقدام کے سراسر خلاف ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ایک ہفتہ قبل اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس سلسلے میں خـبردار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اردن اسرائیل کے اس منصوبہ کے خلاف ہے۔

طارق خوری نے کہا کہ اسرائیل کے اس خطرناک منصوبہ کے نتیجے میں فلسطینی ملک کی تشکیل کا خاتمہ ہوجائےگا اور عرب حکمرانوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ صلح پر مبنی مذاکرات نے صورتحال کو آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے پر کمر بستہ ہوگیا ہے ۔

طارق خوری نے کہا کہ اسرائیل کی منہ زوری اور تسلط پسندانہ پالیسی کو روکنے کے لئے اس کے خلاف مسلح مزاحمت ہی واحد آپشن اور واحد راستہ ہے کیونکہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں