30 July 2020 - 09:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443314
فونت
حجت الاسلام ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین ہاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں مسالک کی بجائے امت اور اتحاد کی بات کرنی چاہیئے، اس بل سے گلی گلی میں مسلکی مسائل پیدا ہوں گے، ہر فقہ کو اپنی نظریات کے مطابق زندگی کا حق حاصل ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین ہاکستان کے سربراہ حجت الاسلام ناصر عباس جعفری سے اسلام آباد کے سینیئر صحافیوں نے ملاقات کی اور پنجاب اسمبلی میں پاس ہونے والے تحفظ بنیاد اسلام بل پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔

صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے، مذاہب و مسالک کے درمیان محبتوں کے فروغ کیلئے کردار ادا کیا جائے، ملک میں تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنانا آئینی تقاضا ہے، جبکہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ بل آئین پاکستان کے منافی ہے۔ اس طرح کے قوانین سے ملک میں مسلکی اختلافات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ہمیں ایک پاکستان چاہیئے پانچ پاکستان نہیں، ہر صوبے میں ایک مسئلے پر الگ الگ قانون سازی ہوگی تو ایک پاکستان کے بجائے پانچ پاکستان کی طرف بڑھیں گے، ہمیں مسلکی نہیں اسلامی پاکستان چاہیئے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں مسالک کی بجائے امت اور اتحاد کی بات کرنی چاہیئے، اس بل سے گلی گلی میں مسلکی مسائل پیدا ہوں گے، ہر فقہ کو اپنی نظریات کے مطابق زندگی کا حق حاصل ہے، اپنی فکر و نظریہ کو زبردستی دوسروں پر مسلط نہیں کرنا چاہیئے۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات حسنین زیدی بھی موجود تھے۔ ناصر عباس شیرازی نے صحافیوں کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬