06 August 2020 - 10:03
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443385
فونت
حجت الاسلام علامہ سید جواد نقوی :
تحریک بیداری امت مصطفیٰ (ص) کے سربراہ نے کہا کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی نے پاکستان میں مذہب اسلام کے حقیقی نظریات متعارف کرائے اور پاکستانی قوم کا تعلق انقلاب اسلامی سے جوڑا ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تحریک بیداری امت مصطفیٰ (ص) کے سربراہ حجت الاسلام علامہ سید جواد نقوی نے جامعہ شہید عارف الحسینی پشاور میں شہید عارف الحسینی کی 32ویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی نے پاکستانی قوم کا تعلق حقیقی اسلامی نظریات اور انقلاب اسلامی سے جوڑا، پنجاب میں متنازعہ بل پیش کرکے پرانے مسائل کو ایک بار پھر زندہ کرنیکی کوشش کی گئی ہے، بابری مسجد کی جگہ آج مندر کی تعمیر کا آغاز شہید قائد کی شہادت جیسا سانحہ ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی نے پاکستان میں مذہب اسلام کے حقیقی نظریات متعارف کرائے اور پاکستانی قوم کا تعلق انقلاب اسلامی سے جوڑا، پاکستان میں انقلاب اسلامی کیساتھ پہلی وابستگی جماعت اسلامی نے کی، ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے اسلام کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا۔

تحریک بیداری امت مصطفیٰ (ص) کے سربراہ نے کہا کہ ضیاء کی فقہ حنفیہ کے نفاذ کی کوششوں کے ردعمل میں تشیع پاکستان نے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائی، یہ آواز ایک کنونشن تک پہنچی اور پھر کنونشن سے ایک تنظیم وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائد نے قیادت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے جوانوں کو آگاہ کیا، شہید کا سب سے بڑا احسان دین کو روایتی و رسوماتی نظریات سے انقلابی و حقیقی نظریات کی طرف موڑنا ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ امام خمینی (رہ) کی فکر ہی شہید قائد کی فکر تھی۔ شہید نے کبھی فلسطین و کشمیر کو فراموش نہیں کیا، یہ انکی میراث تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے شہریت کا متنازعہ قانون اور پاکستان میں ایک فرقہ وارانہ بل پاس ہونا ایک ہی طرح کے اقدامات ہیں، پنجاب اسمبلی کے بل کے ذریعے پرانے مسائل کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اسی وجہ سے آج بتیس سال بعد ہمیں شہید کی یاد آتی ہے۔

حجت الاسلام علامہ سید جواد نقوی نے وضاحت کی کہ متنازعہ بل کے بعد سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ بحثیں ختم ہونی چاہئیں، یہ مناسب اقدام نہیں ہے۔ پاکستان میں نکاح اور جنازے کی طرح نظام سیاست و حکمرانی اور عدالت بھی حلال ہونا چاہیئے۔ سنی کے نزدیک خلافت اور شیعہ کے نزدیک امامت حلال کا نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا پرویز الٰہی علمائے کرام کو اب کتاب لکھنا اور دین پر عمل کروانا سکھائے گا۔؟ اس وقت عوام اور علماء کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنا بل پیش کریں، اس قسم کے بل پیش کرنا اسمبلی یا تنظیموں کا کام نہیں۔ نریندر مودی کی جانب سے بابری مسجد کی جگہ آج ہی کے دن مندر کی بنیاد رکھنا عالم اسلام کیلئے سوگ کا عالم ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬