‫‫کیٹیگری‬ :
09 March 2013 - 19:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5201
فونت
رسا نیوزایجنسی - قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے"سات ہزار شہید خواتین" سے معنون کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں بڑے اہم نکات کی جانب اشارہ کیا۔
سات ہزار شہيد خواتين کانفرنس


رسا نیوزایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق، قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے"سات ہزار شہید خواتین" سے معنون کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں بڑے اہم نکات کی جانب اشارہ کیا۔


قائد انقلاب اسلامی کے پیغام کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛


بسم الله الرحمن الرحیم
 

آج آپ جام شہادت نوش کرنے والی ہزاروں خواتین کے لشکر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جمع ہیں جنہوں نے تاریخ اسلام اور وطن عزیز کے رخ کو نئی سمت و جہت عطا کرنے میں قابل قدر کردار ادا کیا اور سرخرو ہوکر بارگاہ خداوندی میں حاضری دی۔ ان فرشتہ صفت خواتین کا لشکر جنہوں نے راہ اسلام میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، محض تماشائی نہیں رہا بلکہ اس نے میدان عمل میں وارد ہوکر جدید ایران کے معماروں کی صف میں اپنی جگہ بنائی۔ یہ بڑی عظیم خواتین تھیں جنہوں نے مشرق و مغرب کے سامنے عورت کی ایک نئی تصویر و تعریف پیش کی۔ عورت کی مشرقی تعریف غالبا یہ ہے کہ وہ حاشئے پر رہنے والی ذی روح ہے جس کا تاریخ سازی میں کوئی کردار نہیں جبکہ مغربی تعریف کے مطابق عورت وہ موجود ہے جس کا جنسیاتی پہلو اس کی انسانیت پر پر غالب رہتا ہے اور جو مردوں کی جنسی بھوک کی تسکین کا سامان اور جدید سرمایہ دارانہ نظام کی خدمت گزار ہے۔ انقلاب اور مقدس دفاع کی شیردل خواتین نے ثابت کر دیا کہ وہ  "لا شرقیہ و لا غربیہ" عورت کا ایک تیسرا نمونہ ہیں۔ مسلم ایرانی خاتون نے دنیا کی خواتین کے سامنے ایک نیا باب متعارف کرایا اور ثابت کر دیا کہ عورت ہوتے ہوئے، عفت و پاکدامنی سے آراستہ ہوتے ہوئے، با حجاب و باوقار رہتے ہوئے بھی امور کے متن و مرکز میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ خاندان کے محاذ کو پاکیزہ رکھتے ہوئے سیاسی و سماجی میدانوں میں نئے نئے محاذوں پر بھی شراکت کی جا سکتی ہے اور بڑی فتوحات حاصل کی جا سکتی ہیں۔


ان عورتوں نے اپنے نسوانی جذبات، لطافت اور رحمدلی کو جہاد و شہادت و استقامت کے جذبات سے آمیختہ کیا اور مردوں کے میدانوں کو بھی اپنی شجاعت و فداکاری اور اخلاص و صدق دلی سے سر کر لیا۔


اسلامی انقلاب اور مقدس دفاع میں ایسی عورتیں درخشاں نظر آئیں جو عورت کی تعریف، تہذیب نفس و ارتقائے نفس کے میدان میں، صحتمند خاندان اور معتدل گھر کی حفاظت کے میدان میں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے میدان میں اور سماجی جہاد کے میدان میں عورت کے کردار اور شراکت کو عالمی سطح تک پہنچانے اور بڑی رکاوٹوں کو عبور کرنے پر قادر تھیں۔
 

عصر جدید میں ان مجاہد خواتین کے خون کی برکت سے ایک نیا جذبہ اور نئی قوت نمودار ہوئی ہے جس نے پہلے درجے میں عالم اسلام کی سطح پر خواتین پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں اور جلد یا بدیر دنیا میں عورتوں کی سرنوشت کو بھی متاثر کریگی۔


جب تک خدیجہ کبری علیہا السلام، فاطمہ زہرا علیہا السلام اور زینب کبری علیہا السلام کا درخشاں آفتاب ضو فشانی کرتا رہے گا عورت کے خلاف نئی یا پرانی کوئی بھی سازش کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گی۔ ہماری ہزاروں کربلائی خواتین نے ظاہری ظلم و ستم کے سیاہ محاصرے کو توڑنے کے ساتھ ہی عورتوں پر ماڈرن انداز میں ہونے والے ظلم و زیادتی کو بھی رسوا کرکے ثابت کر دیا ہے کہ عورت کی خداداد آبرو اور وقار اس کا سب سے اہم حق ہے جو نام نہاد ماڈرن دور میں ہنوز ناشناختہ ہے اور اب اس کی شناخت کا وقت آن پہنچا ہے۔


ان گراں قدر خاتون شہیدوں کے خاندانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ امید کرتا ہوں کہ ان باشرف مجاہد خواتین کے خون کی برکت سے ذرائع ابلاغ، فنکار، فرزانہ شخصیات اور سنیما کی صنعت سے وابستہ افراد مسلم ایرانی خواتین کے عظیم جہاد کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے جسے اس جہاد سے روشناس ہونے کی سخت ضرورت ہے۔


مسلم ایرانی مجاہد خاتون صدر اسلام کی خواتین کے بعد جو معلم اول ہیں، دنیا کی عورتوں کے لئے معلم ثانی کا درجہ رکھتی ہیں۔


اللہ کا درود و سلام ہو اسلام کی عظیم خاتون حضرت فاطمہ زہرا ، صدر اسلام کی تمام باعظمت خواتین اور ایران اسلامی کی جاں نثار و فداکار خواتین پر۔


سیّدعلی خامنه‌ای
 مطابق 5 مارچ 2013
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬