‫‫کیٹیگری‬ :
10 April 2013 - 16:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5270
فونت
رسا نیوزایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مسلمانوں کو شیعوں سے مقابلہ کے سلسلہ پر آل الشیخ وھابی دارالافتا کے سربراہ کے فتوی پر سخت رد عمل کا اظھار کرتے ہوئے اسے سیاسی و ثقافتی فتوی جانا ۔
آيت الله مکارم شيرازي

 

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آج صبح درس خارج فقہ دوران جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ کی شرکت میں مسجد اعظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم(س) میں منعقد ہوا شھر بوشھر کے زلزلہ میں مرنے والوں کے لئے دعا مغفرت کرتے ہوئے داغدار گھرانوں کو صبر کی تلقین اور انتظامیہ سے زلزلہ افراد کو جلد از جلد امداد رسانی کی تاکید کی ۔ 


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آل الشیخ وھابی مفتیوں کے سربراہ کی جانب سے دئے گئے فتوی  پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: تمام مسلمانوں کو شیعوں سے مقابلہ کی دعوت جیسا عجیب وغریب فتوی اسلامی دنیا میں مذھبی جنگ کی دعوت دینا ہے ۔


سرزمین قم کی اس نامور شخصیت نے مزید کہا: مصر کے وھابیوں نے بھی شیعوں سے مقابلہ بازی اور ان کے خلاف فعالیتوں کا آغاز کر رکھا ہے ، اور وہ ایران سے رابطہ برقرار نہ کرنے پر مصر ہیں ، ھمارے لحاظ سے تمام ان باتوں اور شیعت سے مقابلہ کا سرچشمہ دو چیزیں ہیں؛ اول یہ ہے کہ آل الشیخ جیسے لوگ حکمرانوں کو اولی امر جانتے ہیں اور اس کی دوسری وجہ جو اھم تر ہے وہ یہ ہے کہ ان کے جیسے تمام افراد حکومت کے جیرہ خوار ہیں اور گورمنٹ سے انہیں تنخواہیں ملتی ہیں ۔


انہوں ںے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مغربی دنیا اسلامی دنیا میں قبائلی جنگ چھیڑنا چاھتی ہے کہا: سعودی حکومت کا بھی امریکا و اسرائیل سے دوستانہ ہے اور اسی بنیاد پر وہ بھی اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں و نیزسعودی حکام سعودی کے وھابی مفتیوں کو اختلافاتی فتوی دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مزید کہا: شیعوں سے خوف کی دوسری وجہ شیعوں کی عقلی و منطقی گفتگو و اهل بیت(ع)  ہیں، وھابی مصر میں شیعہ ٹوریسٹ کے جانے سے گھبراتے ہیں اور ثقافت اهل بیت(ع) کی ترویج سے خوف مند ہیں ۔       


حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ تمام اھلسنت کتابیں، شیعہ کتابخانوں میں موجود ہیں اور ھمیں کسی قسم کا کوئی خوف بھی نہیں ہے کہا : مگر وھابی کتابخانوں میں شیعوں کی ایک بھی کتاب موجود نہیں اور یہ شیعہ مذھب سے ان کے خوف کی نشانی ہے ۔


اس مرجع تقلید نے مزید کہا: ھمیں امید ہے کہ نادان و لاعلم مسلمان مفتی، اپنے سچے دشمن کی شناخت کرسکیں گے اور اسلامی معاشرہ کو اختلاف و تفرقہ ، جنگ اور خون و خونریزی کے بجائے اتحاد کی جانب دعوت دیں گے ۔   
آپ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حُسن خَلق ، انسانوں کی زینت ہے رسول اسلام سے منقول حدیث کے آئینہ میں حُسن خَلق یعنی لوگوں سے اچھے برتاو کو اسلام کے اھم اصولوں میں شمار کیا اور کہا: وھابیت عقل و منطق سے دوری کرکے عصر جاھلیت کی جانب لوٹ گئی ہے  ۔


آیت الله مکارم شیرازی نے مزید کہا: وھابیت نے شدت پسندی کو بالاترین منزل تک پہونچا دیا ہے جبکہ پیغمبر اسلام حُسن خَلق کا مظھر تھے اور آنحضرت عصر جاھلیت میں سبھی کو حُسن خَلق کی دعوت دیا کرتے تھے  ۔


انہوں نے یہ بیان کیا کرتے ہوئے کہ حُسن خَلق تمام اعمال کے مقابل قیامت میں زیادہ وزنی ہوگا کہا: بعض افراد سوچتے ہیں کہ مومن وہ جس جے چہرے پر ھمیشہ شکن رہے  جبکہ اسلام نے ھرگز زهد، تقوا اور قداست کا لازمہ عبوس ہونا قرار نہیں دیا ، بلکہ اسلامی کی نگاہ میں زهد، تقوا اور قداست کا مطلب خشحال کے چہرے کا ہونا، اچھی زبان اور مودبانہ گفتگو کرنا ہے ۔


انہون ںے آخر میں کہا: حُسن خَلق میں عجب جاذبہ موجود ہے ، حُسن خَلق ھر مقام ، ھر مکان اور ھر زمان میں حَسِین ہے ۔


 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬