‫‫کیٹیگری‬ :
01 October 2013 - 13:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6009
فونت
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران میں تبریز کے امام جمعہ نے بیان کیا : جس حد تک ایک مفید کتاب معاشرے کی فکر اور ثقافتی معیار کو بلند کرنے میں موثر ہے اسی طرح ایک گمراہ کتاب بھی اسی حد تک معاشرے کی فکر کو خراب کرنے اور عوام کے منفی تفکر رائج کرنے میں بڑا اثر رکھتی ہے ۔
آيت الله شبستري


رسا نیوز ایجنسی کے تبریز رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ولی‌ فقیہ کے نمائندے اور تبریز کے امام جمعہ آیت ‌الله محسن مجتهد شبستری نے تبریز میں گیارہویں بین الاقوامی کتابی نمائشگاہ کے افتتاحیہ تقریب میں اس بیان کے ساتہ کہ کتاب اور کتاب خوانی کی ثقافت کی ترویج معاشرے کے نظریہ و دینی فکر کے درجہ کو بلند کرنے میں بہت ہی اہمیت رکھتی ہے بیان کیا : کتاب لوگوں کے خیالات اور ان کے رائے پر مشتمل ہے اور بشر کی علمی کامیابیاں صرف کتاب سے منتقل ہوتی ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : جس حد تک ایک مفید کتاب معاشرے کی فکر اور ثقافتی معیار کو بلند کرنے میں موثر ہے اسی طرح ایک گمراہ کتاب بھی اسی حد تک معاشرے کی فکر کو خراب کرنے اور عوام کے منفی تفکر رائج کرنے میں بڑا اثر رکھتی ہے ، اس وجہ سے ایک کتاب کے شایع ہونے کی اجازت دینے میں معاشرے کی دینی تفکرات کو مد نظر رکھا جائے اور جو کتابیں معاشرے کی تفکرات کو تباہ کر سکتی ہیں اس کی اشاعت کو روکا جائے اور اس پر پابندی لگائی جائے ۔

آیت الله شبستری نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : کتاب کی اہمیت و منزلت اس حد تک عظیم ہے کہ رسول کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : علم کو لکھنے کے ذریعہ قید کیا جائے اور دانش کو دانشمندوں کے پاس حاضر ہو کر لکھا جائے کیونکہ علم کا خاتمہ دانشمندوں کے گذر جانے پر ہے ، یہ حکیمانہ قول کتاب اور اس کے مصنف و مولف کی مقام و منزلت کو بیان کر رہی ہے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتہ کہ کتاب نسلوں تک علم کو منتقل کرنے میں بہت ہی اہم کردار نبھاتی ہے بیان کیا : حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا « جب بھی کوئی مومن مرتا ہے اور وہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر وہ اپنے علمی مطالب لکھ کر یہاں چھوڑ دیتا ہے وہ کاغذ کا ٹکڑا قیامت کے روز اس کے اور جہنم کے آگ کے درمیان پردہ بن جاتا ہے اور خداوند تبارک و تعالى اس کے ہر حرف کے بدلہ جو کہ اس کاغذ پر لکھا ہے اس دنیا سے سات گنا وسیع شہر اس کو عنایت کرتا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬