‫‫کیٹیگری‬ :
09 May 2015 - 19:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8118
فونت
آیت الله هاشمی شاهرودی:
رسا نیوز ایجنسی - آیت الله هاشمی شاهرودی نے اسلامی معاشرہ کی دشمنی، مصیبتیں، مکر و حیلے کو بے سابقہ بیان کیا اورکہا: اسلامی جمھوریہ ایران کفار کے مقابل کمزور اہل سنت کا حامی و مدافع رہے گا، چاہے و مسلمان فلسطین کے ہوں چاہے غزہ کے چاہے یمن کے ہوں ۔
آيت الله هاشمي شاهرودي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد آیت الله محمود هاشمی شاهرودی نے آج ظھر سے قبل اپنے درس میں کہا: عصر حاضر میں مسلمان بے انتہا سختیوں سے روبرو ہیں ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی ممالک اور علاقہ میں رونما ہونے والے حالات دردناک اور تکلیف دہ ہیں کہا : اسلامی معاشرہ نے ھرگز یہ دشمنی، مصیبتیں، مکر و حیلے نہیں دیکھے ہیں ۔


آیت الله هاشمی شاهرودی نے یہ کہتے ہوئے کہ عالمی سامراجیت خصوصا امریکا نے اپنی آلہ کار حکومتوں کے ذریعہ عالم اسلام میں عظیم فتنہ برپا کردیا ہے کہا: یمن میں بے گناہوں کا قتل عام ایک فراری کی حمایت کے لئے انجام پارہا ہے ، ایک ایسے انسان کی حمایت جس کی قانونی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے اور اس نے اسی بنیاد پر استعفاء دیا اور راہ فراہ اختیار کرلی  ہے ، اور اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ دنیا کے کانوں پر جوں تک نہ ریں گی ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ گذشتہ دنوں یمن پر آل سعود کی جنایتیں بے سابقہ رہی ہیں کہا: صھیونیوں اور یھودیوں نے بھی غزہ پر اس جنایت کو انجام نہیں دیا جسے آل سعود نے اس مسلمان ملک ہونے کے ناطے مسلمان برادری کے ساتھ کیا ہے ۔


حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد نے علاقہ میں عالمی سامراجیت کی کھلی مداخلت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: تشدد پسند افراد اور دھشت گردوں کی حمایت اور ان کی تربیت نیز اسلامی ممالک کی تقسیم کی سیاست ان کا کھلا کارنامہ ہے ۔


انہوں نے مزید کہا: علاقہ کے بعض ممالک غاصب صھیونیت کے غلام اور ان کے آلہ کار ہیں ، آل سعود کی جنایت اس طرح کی ہیں کہ علاقہ کے حالات کو  بدل سکتی ہیں ۔


آیت الله هاشمی شاهرودی نے آخر میں یاد دہانی کی: موجودہ حالات میں علماء و دانشمندوں کی ہوشیاری و بیداری ضروری ہے کہ وہ امت اسلامیہ کو کفر کے مقابل اتحاد و ھمدلی کی دعوت دیں ۔ 
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬