15 October 2016 - 13:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423850
فونت
حافظ سعید:
امیر جماعت الدعوۃ پاکستان نے کہا: داعش جیسی تنظیمیں بنا کر مسلمانوں کا خون بہایا گیا، یہ جو کچھ بھی کریں امن پسند ہیں اور کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر علاقوں میں اگر مسلمان اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کریں تو ان کیخلاف دہشتگردی کا پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے ۔
حافظ سعید

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جماعت الدعوۃ پاکستان کے امیر حافظ سعید نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : داعش جیسی تنظیمیں بنا کر مسلمانوں کا خون بہایا گیا، یہ جو کچھ بھی کریں امن پسند ہیں اور کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر علاقوں میں اگر مسلمان اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کریں تو ان کیخلاف دہشتگردی کا پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ چاہتا ہے بھارت پاکستان پر حملہ کر دے کہا: اسی طرح جو لوگ مسلم ملکوں، خطوں و علاقوں میں خودکش دھماکوں کو فساد سمجھتے اور مسلمانوں کے باہمی قتل کو صلیبیوں و یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں انہیں خاص طورپر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

امیر جماعۃالدعوۃ حافظ سعید نے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت کو پاکستان پر حملہ کی شہ دی جا رہی ہے، امریکہ کی طرف سے بھارت کو پاکستان کیخلاف کارروائی کا حق حاصل ہونیوالے بیان پر حکومت کو خاموش نہیں رہنا چاہیے کہا: لاکھوں مسلمانوں کے قاتل بھارت کو امن پسند اور اپنی عزتوں و حقوق کیلئے جدوجہد کرنیوالوں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا : بھارت جماعۃالدعوۃ کیخلاف ممبئی حملوں کا الزام قیامت تک ثابت نہیں کر سکتا، ہم ملک میں اتحادویکجہتی کے قیام، دکھی انسانیت کی خدمت اور نوجوان نسل کو بیرونی سازشوں سے بچانے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، دشمنان اسلام کو ہمارا یہ عمل برداشت نہیں ہے۔

حافظ سعید نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کے اس بیان کہ’’ہندوستان کو پاکستان میں کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے‘‘ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: پاکستان کشمیریوں کا سب سے بڑا وکیل ہے، اس کا جواب اسلام آباد سے جانا چاہیے تھا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جب امریکہ کوئی الزام عائد کرتا یا دباؤ بڑھاتا ہے تو پاکستانی حکمران خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا: کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ مسئلہ ہے، 8 لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں بدترین ظلم و ستم ڈھا رہی ہے، کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر خواتین کی عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں، سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں لیکن امریکیوں کو اس ظلم و قتل کا کوئی احساس نہیں، وہ کشمیر کو انڈیا کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور لاکھوں مسلمانوں کی قاتل بھارت سرکار کو معصوم قرار دیکر جماعۃالدعوۃ کیخلاف ٹرائل کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

امیر جماعت الدعوۃ پاکستان نے کہا: بھارت و امریکہ کی سیاست ناکام ہو رہی ہے، کشمیر جلد انشاءاللہ آزاد ہو گا، ہندوستانی فوج کی گولیوں کا پتھروں سے مقابلہ کرنیوالوں کو حق حاصل ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں سے ہتھیار چھین کر ان کا مقابلہ کریں اور اپنی عزتوں و عصمتوں کو محفوظ بنائیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سمیت اس خطہ کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، کفار کی سازشیں دم توڑ رہی ہیں، ہم نے مسلم امہ کو بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

حافظ سعید نے کہا: امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے، اس کیلئے وہ انڈیا کو شہ بھی دے رہا ہے تاکہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازشیں کر سکے لیکن امریکہ و بھارت کی یہ کوششیں انشاءاللہ کامیاب نہیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا: بھارت اس قابل نہیں کہ وہ پاکستان کیخلاف کوئی کارروائی کر سکے، اس کا سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ بھی دنیا تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور اسے ہر جگہ جگ ہنسائی کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔

امیر جماعت الدعوۃ پاکستان نے کہا: امریکیوں نے جھوٹے الزامات لگا کر افغانستان پر چڑھائی کی اور 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا، اسی طرح صدام کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا بے بنیاد پروپیگنڈا کیا اور وہاں بھی لاکھوں عراقی مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ داعش جیسی تنظیمیں بنا کر مسلمانوں کا خون بہایا گیا، یہ جو کچھ بھی کریں امن پسند ہیں اور کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر علاقوں میں اگر مسلمان اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کریں تو ان کیخلاف دہشتگردی کا پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے، اسی طرح جو لوگ مسلم ملکوں، خطوں و علاقوں میں خودکش دھماکوں کو فساد سمجھتے اور مسلمانوں کے باہمی قتل کو صلیبیوں و یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں انہیں خاص طورپر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬