23 October 2016 - 14:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424004
فونت
اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ نے علماء اسلام سے میڈیہ میں شیعوں کے لئے رافضی کلمہ استعمال نہ کئے جانے کی اپیل کی ہے ۔
شیخ خالد الملا

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ شیخ خالد الملا نے عالمی بیداری اسلامی اسمبلی کی نویں سپریم کونسل اجلاس جو کہ بغداد میں منعقد ہوا جس میں بعض ؛رپٹ عراقی سیاستدانوں کی موجودہ صورت حال پر سختی سے نوٹس لینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا : بعض سیاستمدار بدعنوانیوں میں مبتلی ہیں اور کریپٹ ہیں جو حقیقت کے خلاف بات کرتے ہیں ایسے لوگوں کا حساب و کتاب ہونا چاہیئے ۔

انہوں نے وضاحت کی : عالمی بیداری اسلامی اسمبلی کی نویں سپریم کونسل اجلاس ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے کہ عراق بہت ہی خطرناک حالات سے گزر رہا ہے اور سیکورٹی فورس ، فوج ، پلیس ، رضاکار فورس ، کردی فورس اور قبیلہ ای فورس تمام کے تمام دہشت گردوں سے مقابلہ میں مشغول ہیں اور ابھی تک قابل تحسین کامیابی حاصل کی ہے ۔

اہل سنت علماء کونسل عراق کے سربراہ نے حقیقی اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی و تشدد گرائی سے مقابلہ کرنے میں قوی و طاقت ور قوت جانا ہے اور اظہار کیا : داعش قتل و غارت کرنا ، ذبح کرنا ، آگ لگانا اور بے گناہ انسانوں کو غلام بنانے جیسی غیر اسلامی عمل کی بنیاد پر قائم ہوا ہے ۔ علماء اسلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلامی حکومت خوف و دہشت گردی و بے گناہ لوگوں کے قتل و غارت گری کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتی ہے ۔

انہوں نے میڈیہ پر بعض علماء کی طرف سے ناصبی و رافضی لفظ کے استعمال پر سخت تنقید کی ہے اور بیان کیا : ایک زمانہ میں رافضی و ناصبی لفظ کا استعمال قابل قبول تھا لیکن اس زمانہ میں یہ برے و غلط معنی میں استعمال ہو رہے ہیں جو کہ بعض اسلامی فرق و مذاہب کی تکلیف و نارضایتی کا سبب ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہم لوگوں کو اس لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے ۔

شیخ خالد الملا نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : دہشت گرد تحریک نے عراق کی قوم و جان و فکر و ممبر و ثقافت پر حملہ کیا ہے لیکن ایسے کانفرنس کہ جس میں مفکرین و علماء و شیعہ و سنی شخصیت شرکت کر رہے ہیں وہ اس ملک کو موجودہ مشکلات و بحران سے نجار دلا سکتے ہیں ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۳۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬