‫‫کیٹیگری‬ :
31 October 2016 - 11:59
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424173
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی:
مفسر عصر حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے یہ کہتے ہوئے کہ وھابیوں نے نہ خود کو پہچانا ، نہ دین اسلام کو ، نہ خدا اور رسول اسلام کو کہا: مذھب وھابیت کے ماننے والوں نے خود کو معاشرے کو اور دین اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہونچایا ہے ۔
آیت الله جوادی ‌آملی


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت الله عبد الله جوادی آملی نے اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو مسجد آعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا، تفسیر سوره مبارکہ حجرات کی تفسیر کی ۔

انہوں نے آیت « إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ، مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے » کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اتحاد و ھمدلی بتانے کی چیز نہیں ہے بلکہ فطری چیز ہے ، جس پر شریعت نے بہت تاکید کی ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے کہا: وھابیوں نے نہ خود کو پہچانا ، نہ دین اسلام کو ، نہ خدا اور نہ رسول اسلام کو ، لھذا انہوں نے خود بھی نقصان پہونچایا اور دوسروں کو بھی ۔

انہوں نے مزید کہا: ای مومنین ہم تم نے کو مختلف رنگ و نسل کا پیدا کیا ہے ، پس ھرگز ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاو، کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کا مضحکہ نہ اڑائے ، کوئی انسان کسی انسان کا مذاق نہ بنائے ، کوئی عورت کسی عورت کا مذاق نہ اڑائے ، کیوں کہ ممکن ہے تم جس انسان کا مذاق اڑا رہے ہو وہ تم سے بہتر ہو، ہمیں کسی کے اندر کی خبر نہیں ہے ، اور پھر فرمایا کہ ، « وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ، آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کرو » تم ایک سماج کے ہو لھذا ایک دوسرے کی تحقیر نہ کرو ، معاشر ایک روح ہے ، لھذا ایک معاشرے میں جھوٹ بولنے والا سب سے پہلے اپنی تحقیر کرتا ہے اور اپنی ذلت کے اسباب فراھم کرتا ہے ۔

حوزه علمیہ قم کے نامور استاد نے مزید کہا: تم اپنے حق میں رحم کرو کیوں تم ایک حقیقت اور ایک روح و جان ہو، کیوں کہ خداوند متعال نے ہمیں مھذب پیدا کیا ہے ، لھذا اگر کوئی کسی کا مضحکہ اڑائے تو گویا اس نے خود کا مذاق اڑایا ہے ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۴۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬