02 January 2017 - 10:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425434
فونت
لبنان کے معروف تجزیہ کار نے ترکی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کو صدر اردوغان کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی حمایت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ترکی بمب بلاسٹ

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے معروف تجزیہ کار "مروہ عثمان" نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رجب طیب اردوغان نے ترکی کی سرحدوں کو مجرموں اور دہشتگردوں کے لیے کھول دیا ہے اسی لیے اس ملک میں دہشتگردی کے مختلف واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی کی سرحد سے شام میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو مسلسل ہتھیاروں کی کھیپ حاصل ہورہی ہے اور اس گروہ سے منسلک دہشتگرد یہاں سے شام اور عراق میں داخل ہوتے ہیں۔

مروہ عثمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے دہشتگردوں کے لیے مالی امداد فراہم کی اور دہشتگردوں نے ترکی کی سرحد سے شام میں داخل ہوکر اس ملک میں بحران اور مختلف مسائل پیدا کیے۔

لبنانی تجزیہ کار مروہ عثمان نے کہا کہ اگرچہ اس وقت دہشتگردوں کے سلسلے میں صدر اردوغان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے لیکن چھے سال سے دہشتگرد ترکی آ رہے ہیں اور اب دہشتگردی کو کنٹرول کرنا، ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چہ شام کی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران، حزب اللہ اور روسی فضائیہ کی مدد سے دہشتگردوں سے مقابلہ کیا ہے لیکن امریکہ اور بعض علاقائی ممالک اسرائیل کی سربراہی میں دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے ترکی کے شہر استنبول میں سال نو کا جشن منانے والوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی، دہشت گردوں نے نائٹ کلب میں گھس کر 39 افراد کو ہلاک اور 69 کو زخمی کردیے۔

قابل ذکر ہے کہ 2017 کا آغاز ترکی کے لیے بھیانک ثابت ہوا ۔

ترکی کے شہر استنبول میں سال نو کا جشن منانے والوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ،دہشت گردوں نے نائٹ کلب میں گھس کر 35 افراد کو ہلاک اور 46 کو زخمی کردیے۔

عینی شاہدین اور ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کلب میں دہشت گردی کے واقعے میں 3 حملہ آور شامل تھے جو سانتاکلاز کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے پہلے گارڈ کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا پھرکلب میں داخل ہوکر فائرنگ کردی۔ مارے جانے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ترکی کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس دہشتگردانہ کارروائی کے بعد ایک حملہ آور کو فرار ہوتے ہوئے ہلاک کیا گیا ہے۔

استنبول شہر کے گورنر واسیپ شاہین نے اس واقعے کو دہشتگردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں 35 افراد سمیت ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور 46 دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی میں مقامی میڈیا کے مطابق حملے کے وقت کلب میں 700  کے لگ بھگ افراد موجود تھے، جو سال نو کا جشن منانے کے لیے یہاں جمع ہوئے تھے۔

یاد رہے دس دسمبر کو ترکی کے استنبول شہر میں دو دھماکے ہوئے تھے جس میں 44 افراد ہلاک اور دسیوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

دہشتگردوں کے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر حالیہ دنوں میں استنبول میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے اور 17 ہزار کے قریب پولیس اہلکار شہر بھر میں گشت زنی کرتے تھے۔

واضح رہے کہ ہفتہ کے دن ترک پولیس نے انقرہ شہر میں داعش دہشتگرد گروہ سے منسلک 8 افراد کو گرفتار کیا تھا جو نئے سال کی آمد کے موقع پر دہشتگردانہ کارروائیاں کرنا چاہتے تھے۔

 مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی میں 227 کے قریب افراد  2016 میں داعش کے دہشتگردانہ حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬