
سا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام سید ریاض حسین نجفی نے مسجد جامعہ المنتظر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا : خالق کائنات نے سب انسانوں کیلئے اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیا مگر انہوں نے فرقے بنا دیئے جو اللہ تعالی کو پسند نہیں، تعلیمات اسلامی کے مطابق سلام کرنا مستحب، جواب واجب ہے، ہر کام میں نیت درست ہونی چاہئے، نیت کا دائرہ تعلیم و تربیت کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں سے محبت و الفت کی تاکید کی گئی ہے، والدین یا استاد صحیح تربیت اور ادب سکھانے کیلئے بچوں پر سختی کریں تو ٹھیک لیکن رعب جھاڑنے کیلئے نہیں، محض شرارت پر سزا دینا ٹھیک نہیں، سخت لباس، رات سے محبت، رات کی تاریکی میں عبادت خدا میں غمزدہ کی طرح رونا، محبت سے پیش آنا، حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی صفات میں سے ہیں۔
انہوں نے آیہ مبارکہ "اِن الدین عنداللہ الاسلام" کے ضمن میں کہا کہ اللہ کے نزدیک فقط اسلام ہی دین ہے، جس کے معنی سلامتی ہیں، اسلام کے سلامتی کا دین ہونے کی بنا پر ہی سلام کو بے حد اہمیت دی گئی جس کا کرنا مستحب لیکن جواب واجب ہے یعنی ایک دوسرے کو سلامتی کا پیغام دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مختلف الفاظ میں کیا گیا ہے مگر نام فقط چار مقامات پر ذکر ہوا ہے، ان میں سے سورہ مبارکہ احقاف میں ارشاد ہوا "محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم" آپ کے ساتھیوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ کافروں پر سخت مگر آپس میں رحم دل و مہربان ہوتے ہیں، یہ ساتھی فقط حضور کے زمانے تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنیوالے مسلمان بھی مراد ہیں جو رسول اکرم کا ساتھ دیں گے اور کافروں سے فقط خدا کے منکر مراد نہیں بلکہ غلط کام کرنیوالے بھی اس میں شامل ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/