
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں اور کشمیری طلبا کے درمیان ہونے والے جھڑپوں میں دو سو سے زائد کشمیری طلبا زخمی ہو گئے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پیر کے روز فریقین کے درمیان یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب ہندوستان کے سیکورٹی اہلکاروں نے ایک کالج پر دھاوا بول دیا۔
ہندوستان کے سیکورٹی اہلکاروں نے احتجاج کرنے والے کشمیری طلبا کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔
کشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس نے ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کے اس اقدام کو بربریت قرار دیا ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اتوار کو سرینگر میں سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ میں ایک سترہ سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے طور پر عام ہڑتال رہی۔
ہڑتال کے نتیجے میں تمام کاروباری مراکز بند رہے اور ٹرانسپورٹ معطل اور معمولات زندگی متاثر رہے۔
ایسی حالت میں کہ گذشتہ ہفتے، اتوار کے روز سرینگر میں ہندوسان کے سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ میں آٹھ عام شہریوں کی ہلاکت پر کشمیری عوام میں خاصی برہمی پائی جاتی ہے سرینگر میں اس سترہ سالہ کشمیری نوجوان کی ہلاکت کی خبر سے ان میں شدید غم و غصہ بھڑک اٹھا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حساس علاقوں میں کسی بھی قسم کے تشدد کی روک تھام کے لئے مزید سیکورٹی اہلکار روانہ کر دیئے گئے ہیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/