03 June 2017 - 19:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428373
فونت
آیت الله محمد ناصری:
سرزمین ایران کے برجستہ عالم دین نے یہ کہتے کا انسان پر اس کے پیٹ کا حق یہ ہے اس میں حلال غذائیں جائیں کہا: حلال خوری میں بھی زیادہ کھانے اور اسراف سے پرھیز کیا جائے کیوں کہ پر خوری عبادت اور کام کاج میں سستی پیدا کرتی ہے ۔
آیت الله محمد ناصری

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفھان سے رپورٹ کے مطابق، سرزمین ایران کے برجستہ عالم دین آیت الله محمد ناصری نے آج ظھر کے وقت مسجد کمرزرین اصفهان میں درس دیتے ہوئے کہا: ہم سبھی کی ذمہ داری ہے کہ اپنے پیٹ کے حق کو بخوبی ادا کریں ، افسوس بعض افراد شکم پرست ہیں اور ہمیشہ اسے پر کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔

حرام کھانا 40 دن تک مانع استجابت دعا ہے

انہوں نے مزید کہا: انواع و اقسام کے مرض دوا کھانے کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں ، اور در حقیقت غذا ، دوا اور پیٹ کے اندرونی حصے بدن سے بیماریوں کے دور رکھنے میں مددگار ہیں ، اور اس کا مرکز انسان کا پیٹ ہے ۔

آیت الله ناصری نے یہ کہتے ہوئے کہ حلال غذا ، پیٹ کا انسان پر حق ہے کہا: حرام کھانا کھانے سے 40 دن تک دعائیں مستجاب نہیں ہوتیں کیوں کہ ھر غذا کا انسان کے بدن پر 40 دن تک اثر رہتا ہے، حرام کھانے کی مقدار چاہے جس قدر بھی کم ہو وہ اپنے ظلمانی اثرات ضرور دیکھاتی ہے ۔

انہوں نے کہا: جہاں حرام خور کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ، وہیں حد سے زیادہ حلال خوری بھی انسان کو عبادت اور کام کاج میں سستی پیدا کرتی ہے ۔

سرزمین ایران کے برجستہ عالم دین نے کھانے پینے کے آداب کے سلسلے میں موجود روایات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: پرخوری اور اسراف سے پرھیز کیا جائے ، اس سے پہلے کہ انسان شکم سیر ہو اور اس کا پیٹ بھر جائے کھانے سے ہاتھ کھینچ لے کیوں کہ یہ چیز انسان کی صحت کے لئے مفید ہے ، اسلام ایک مکمل دین ہے ، دین و بدن دونوں ہی کے لئے اس پاس پروگرام موجود ہیں ۔

انہوں نے کہا: حضرت امام علی(ع) نے حضرت امام حسن(ع) سے فرمایا کہ ھرگز دسترخوان پر نہ بیٹھو مگر یہ کہ بھوکے ہو ، اور اس سے پہلے کہ شکم  سیر ہو جاو دسترخوان سے اٹھ جاو ، کھانے کو خوب چباو او سونے سے پہلے قضائے حاجات فراموش نہ کرو کہ یہ چار عمل انسان کو ڈاکٹر سے دور رکھے گا ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۲۲

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬