19 August 2017 - 23:35
News ID: 429554
فونت
آیت الله عبدالامیر قبلان :
اعلی اسلامی کونسل لبنان کے سربراہ نے دہشت گردی کی آفت سے مقابلہ کرنا ایک شرعی ذمہ داری جانا ہے ۔
آیت الله عبدالامیر قبلان

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق اعلی اسلامی کونسل لبنان کے سربراہ آیت الله عبدالامیر قبلان نے اپنے ایک پیغام میں افغانستان و بورکی نفاسو مین دہشت گردی واقعات کی سخت مذمت کی ہے اور اس کو شیطانی عمل سے تعبیر کیا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : دہشت گردی اقدام کو وحشیانہ جرائم میں شمار کیا جاتا ہے کہ جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہوا ہے اور بچے و بوڑھے اور عورت و مرد کے درمیان کسی بھی طرح کے فرق کا قائل نہیں ہیں اور یہ وہ بنیاد ہے کہ جو تمام انسانیت کے دشمن میں تبدیل ہو چکا ہے ۔

لبنان کے بزرگ عالم دین نے وضاحت کی : میرزا اولنگ افغانستان میں بے گناہ مظلوم عوام کا قتل عام اور اسی طرح بورکی نفاسو کے دارالحکومت میں دہشت گردوں کی سفاکانہ اقدام ان کی وحشی گری کی علامت ہے جو تمام ادیان و عرف عوام اور معاہدے کی طرف سے مذمت ہے اور اس نکتہ پر تاکید ہوتی ہے کہ تکفیری دہشت گرد سوائے قتل و غارت گری و بے گھر کرنے کے کچھ اور نہیں جانتے ۔

آیت الله قبلان نے تمام لوگوں و ممالک سے دہشت گردوں کے ناپاک وجود کی جڑ کو ختم کرنے کے مقصد سے متحد ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت کی تاکید کی ہے اور اظہار کیا : تمام حکومت کو چاہیئے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس تفکر کی بنیاد کو نابود کریں اور اس کو دوبارہ وجود میں نہ آنے دیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : مسلمان اپنے تمام مختلف مذاہب کے ساتھ متحد و یکجہتی کے ساتھ تکفیری فکر و دہشت گرد گروہ سے مقابلہ میں متحدانہ قدم بڑھائیں کیوںکہ اس شیطانی آفت کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے اور اس سے مقابلہ ایک شرعی ذمہ دای میں شمار ہوتا ہے ۔

اعلی اسلامی کونسل لبنان کے سربراہ نے اس دہشت گردی کے حادثہ میں قربان ہوئے بے گناہ لوگوں کے خانوادہ اور خاص کر اہل لبنان کی خدمت میں تعزیت پیش کی ہے اور دہشت گردوں کی نابودی معاشرے کو تکفیری جرائم سے دور رکھنے کی خداوند عالم سے دعا کی ہے ۔

قابل بیان ہے کہ میرزا اولنگ افغانستان کا ایک شیعہ نشین علاقہ ہے کہ جس پر چند روز قبل طالبان اور داعش نے مل کر حملہ کر دیا اور اس گاوں سے دہشت گرد شیطانی گروہ نے ۱۵۰سے بھی زیادہ خانوادے کو اسیر کرنے کے بعد ۵۰ لوگوں کو سفاکانہ طور پر گولی باری کر کے شہید کر دیا اور ۵ روز ہوا ہے کہ علاقے کے بزرگوں نے ثالثی کردار اپناتے ہوئے اس گاوں کے اسیر افراد کو طالبان کے چنگل سے آزاد کرایا ہے ۔/۹۸۸/ن۹۳۰/ک۵۰۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬