‫‫کیٹیگری‬ :
13 September 2017 - 17:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429933
فونت
سی پی او محمد طاہر خان کی سربراہی میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے سلسلے میں پونیوالے خصوصی اجلاس میں پولیس افسران کو محرم الحرام کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں میں امام بارگاہوں، مساجد اور حساس مقامات کی سکیورٹی کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی گئی۔
 محرم

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے تمام مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں میں سکیورٹی انتظامات اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی گئی، اس سلسلے میں گذشتہ روز ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں سی سی پی او محمد طاہر خان کی سربراہی میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے سلسلے میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا جسمیں ایس ایس پی آپریشن سجاد خان، ایس ایس پی انوسٹی گیشن نثار خان، ایس پی سکیورٹی صاحبزادہ سجاد، ضلع بھر کے ایس پیز اور ایس ڈی پی اوز نے شرکت کی۔  اس موقع پر سی سی پی او محمد طاہر خان نے پولیس افسران کو محرم الحرام کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں میں امام بارگاہوں، مساجد اور حساس مقامات کی سکیورٹی کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی۔
 
انہوں نے پولیس افسران اور اہلکاروں کو محرم الحرام کے دوران عوام کی جان و مال کی حفاظت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے نئی حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کی۔  محرم الحرام کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ اس کے علاوہ سرائے اور ہوٹلز میں رہائش پذیر افراد کا ڈیٹا چیک کیا جائے اور مشکوک اشخاص پر کڑی نظر رکھی جائے، جبکہ متعلقہ تھانہ سے رجسٹریشن نہ کرانے والے کرایہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ محرم الحرام سے قبل تاجر برادری، علماء کرام، معززین علاقہ اور اہل تشیع کے متولیوں کیساتھ الگ الگ میٹنگ منعقد کرائی جائیں اور ان کو اعتماد میں لے کر سکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں بہتر اقدامات کرنے کی تجاویز طلب کر کے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ سڑک کے کنارے تعمیراتی میٹریل اور کچرا نہ چھوڑا جائے، بلکہ متعلقہ انتظامیہ کو بروقت اطلاع دیں انتظامی اداروں سے رابطے میں رہیں۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬