‫‫کیٹیگری‬ :
12 January 2018 - 19:40
News ID: 433611
فونت
میر واعظ عمر :
حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے ظلم و زیادتی، جبر و قہر اور مار و دھاڑ کی پالیسیاں بدستور جاری ہیں اور ان کی طرف سے کوئی بھی ایسا عمل زمینی سطح پر نظر نہیں آ رہا ہے، جن سے عوام کو راحت مل سکے۔
واعظ مولوی عمر فاروق

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میر واعظ ڈاکٹر عمر فاروق جنہیں گذشتہ جمعہ کی خانہ نظربندی کے بعد آج مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا موقعہ ملا۔ نماز جمعہ سے قبل بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی پُرآشوب اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے نہتے اور معصوم کشمیریوں کا قتل عام گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے برابر جاری ہے جو بے حد افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسپا اور دیگر کالے قوانین Black Laws کی موجودگی میں حکومتی فورسز کو جو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں ان کے بل پر وہ کسی بھی قسم کے محاسبے (Accountability) اور جواب دہی سے بالاتر ہوکر جموں و کشمیر میں کشت و خون کی ہولی کھیل رہی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ شدید سردی کے ایام میں بھی کشمیر کے طول و عرض میں CASO کے تحت خانہ تلاشیوں، کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت 2010ء اور 2016ء میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو رہا کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے اور دوسری طرف بندشوں، تازہ گرفتاریوں، گھر گھر تلاشیوں اور نوجوانوں کو چُن چُن کر شہید کرنے کا مذموم سلسلہ بھی جاری ہے۔ حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے ظلم و زیادتی، جبر و قہر اور مار و دھاڑ کی پالیسیاں بدستور جاری ہیں اور ان کی طرف سے کوئی بھی ایسا عمل زمینی سطح پر نظر نہیں آ رہا ہے، جن سے عوام کو راحت مل سکے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کی پُرامن سرگرمیوں سے حکمران ٹولہ اس درجہ خائف ہے جس کے نتیجے میں پر امن جلسے، جلوسوں ،سمیناروں اور مذاکروں کی تو بات ہی نہیں اب میٹنگوں پر بھی قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں عالمی برادری کی یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی کو رکوانے، بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کے سدباب اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کی بنیاد پر کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق پائیدار بنیادوں پر حل کرانے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ موجودہ سنگین حالات کے تناظر میں مزاحمتی قیادت کے پاس عالمی سطح پر اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے پرامن اور ہمہ گیر ہڑتال ہی ایک ذریعہ Option ہے، اسی لئے مشترکہ قیادت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور معصوم نوجوانوں کے حالیہ قتل عام کے خلاف کل 13 جنوری 2018ء کو عوام سے ہمہ جہت ہڑتال کی دردمندانہ اپیل کی ہے تاکہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین ابتر صورتحال کی طرف بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرائی جاسکے۔ میر واعظ عمر فاروق نے توقع ظاہر کی کہ 13 جنوری کی ہڑتال کو عوام ہر سطح پر کامیاب بناکر ایک بار پھر اپنے حق و انصاف پر مبنی نصب العین کے تئیں تجدید عہد کریں گے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬