12 March 2018 - 13:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435321
فونت
افغان طالبان نے اسلامی اسکالرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن اور ترقی کے حوالے سے انڈونیشیا میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت سے گریز کریں۔
افغان طالبان

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے مذکورہ پیشکش پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، امریکا اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ روز پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا سے مذہبی اسکالرزکو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس کا مقصد افغانستان میں مقدس جہاد کو غیرقانونی خوں ریزی قرار دینا ہے، اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے رواں برس جنوری میں کانفرنس کی تجویز پیش کی تھی۔

اعلامیے میں طالبان نے اسکالروں سے مخاطب ہو کر انھیں خبردار کیا کہ کانفرنس میں شریک ہو کر افغانستان میں غیر مسلم حملہ آوروں کو ان کے مذموم ارادوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا نام استعمال کرنے کا موقع فراہم نہ کریں۔

اس سے قبل طالبان نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ کسی تیسرے فریق (پاکستان اور افغانستان) کو بیچ میں لائے بغیر مذاکرات کے لیے میدان میں آئے، طالبان نے افغان حکومت کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے غیر موزوں رویہ اپنانے کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تیسرے فریق کا دخل بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو امن مذاکرات کی پیش کش کی تھی جبکہ دوسری جانب عالمی طاقتوں کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا تاکہ 16 برسوں سے جاری جنگ کا اختتام ہو سکے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬