08 June 2018 - 16:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436206
فونت
یروشلم یا بیت المقدس ایک انٹرنیشنل سٹی بننے کی طرف جا رہا ہے جسکو اقوام متحدہ کے زیر سایہ قرار دے دیا جائے گا اور اس پر تمام بشریت کا حق تسلیم کر لیا جائے گا جبکہ ۱۹۶۷ء سے پہلے والے حصے کو اسرائیل نامی ملک کی حثیت سے مان لیا جائے گا، آپ نے غور کیا کہ سب یورپین، امریکہ، مسلم اور عرب ممالک حتٰی فلسطین میں ایک بڑا گروپ اس بات پر راضی ہے کہ اسرائیل ۱۹۶۷ء سے پہلے والی حد میں چلا جائے اور اکثر اپنے بیانات میں یہ نہیں کہتے کہ اسرائیل کو ختم ہونا چاہیئے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل ۱۹۶۷ء سے پہلے والی حالت میں چلا جائے۔
 بیت المقدس


تحریر: میم نون خان

اکثر یونیورسٹی میں اپنے لیکچر کے دوران پروفیسر فاطمہ مرضیہ ایک ٹاپک پر گفتگو شروع کر دیتی اور پھر سب لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی رائے دینا شروع کر دیتے، میڈم نے کچھ عرصہ پہلے امریکی سفارت خانہ کا بیت المقدس منتقل ہونے کے بعد اس سال یوم القدس کے حوالے سے بات شروع کی تو کوئی اسٹوڈنٹ قدس سے یہودی اور عیسائیوں کو نکال مارنے کی بات کرتا تو کسی نے کہا کہ ہمارا قبلہ تو خانہ کعبہ ہے آخر ہمیں بیت المقدس پر اتنا جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے، میں نے اجازت مانگی اور عرض کی کہ میڈم مجھے لگتا ہے کہ یروشلم یا بیت المقدس ایک انٹرنیشنل سٹی بننے کی طرف جا رہا ہے جسکو اقوام متحدہ کے زیر سایہ قرار دے دیا جائے گا اور اس پر تمام بشریت کا حق تسلیم کر لیا جائے گا جبکہ 1967ء سے پہلے والے حصے کو اسرائیل نامی ملک کی حثیت سے مان لیا جائے گا، آپ نے غور کیا کہ سب یورپین، امریکہ، مسلم اور عرب ممالک حتٰی فلسطین میں ایک بڑا گروپ اس بات پر راضی ہے کہ اسرائیل 1967ء سے پہلے والی حد میں چلا جائے اور اکثر اپنے بیانات میں یہ نہیں کہتے کہ اسرائیل کو ختم ہونا چاہیئے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل 1967ء سے پہلے والی حالت میں چلا جائے، کیونکہ اس وقت قدس اسرائیل کے کنٹرول میں نہ تھا، حتٰی خود مکہ و مدینہ کے حوالے سے بہت سارے اسلامی ممالک کا یہ مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ان دو شہروں کو اسلامی کانفرنس OIC کے تحت قرار دے کر تمام امت مسلمہ کی مشترکہ ملکیت قرار دیا جائے۔

جس طرح بیت المقدس پر اس وقت حکومتی طور پر یہودی اور عملی طور پر شدت پسند صہیونی قابض ہیں جبکہ پوری دنیا انکے اقدامات اور سوچ کی مخالف ہے اسی طرح مکہ مدینہ پر حکومتی طور پر آل سعود اور عملی طور پر شدت پسند مذہبی وھابیت قابض ہے اور پورے عالم اسلام کی واضح اکثریت انکی مخالف ہے، پس مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں جگہوں کا راہ حل انٹرنیشنل ملکیت قرار دے دیا جائے گا،
میری بات سے ہال میں اچانک خاموشی چھا گئی اور میں نے تشویقی، گھورتی، تمجیدی اور تعجبی آنکھوں کو اپنا تعاقب کرتے محسوس کیا اور کہا کہ اگرچہ با عنوان مسلمان یہ میری خواہش نہیں کہ بیت المقدس انٹرنیشنل سٹی کی حثیت اختیار کر کے اقوام متحدہ کے زیر سایہ چلا جائے بلکہ دعا و آرزو کرتا ہوں کہ اسرائیل تباہ ہو جائے اور بیت المقدس مسلمانوں کے کنٹرول میںں آ جائے لیکن اگر ہم جذبات سے ہٹ کر حالات کا مطالعہ کریں تو ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا، میں نے سبکی توجہ اسرائیل کے ایک سابقہ وزیر خارجہ کے یورپ کے دورے کے دوران یورپ کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اس بیان کی طرف دلائی کہ ہم عربوں کے ساتھ آپ (یورپ) کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سینکڑوں سال تک یورپ اور عرب آپس میں کسی نہ کسی شکل میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یورپ و امریکہ نے نہایت عقل مندی کے ساتھ عربوں کو اسرائیل کے ساتھ الجھا دیا ہے اور خود ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض کی رائے یہ ہو کہ فلسطین میں ہونے والے مظالم یا امریکہ اور یورپ کی اقتصادیات یا اسرائیل کے پیچھے اصل ہاتھ یہودیوں کا ہاتھ ہے اور یہودی کمیونٹی عیسائی کو استعمال کر رہی ہے۔

لیکن میرے خیال میں معاملہ برعکس ہے یعنی یہ مسیحیت، امریکہ اور یورپ ہیں جو یہودیوں کو استعمال کر رہے ہیں، یہودیوں کو مذہب اور سرزمین موعود کے نام پر جذباتی کر کے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ بات بہت سارے یہودیوں کو اب سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے اس لئے ایک قابل توجہ تعداد اسرائیل سے نقل مکانی کر کے واپس جا چکی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد اسرائیل کی مخالف بھی ہے، اچھا آپ ذرا غور فرمائیے کہ یہودیت نے 7 ہجری سے لیکر 19ویں صدی کی ابتداء تک مسلمانوں کے خلاف کوئی ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی حفاظت کی خاطر ہزاروں یہودیوں نے اپنی جانیں قربان کی، لیکن یورپ نے نہایت مکاری اور چالاکی کے ساتھ ایسی گیم کھیلی کہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی جنگ کو مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ میں بدل دیا اور عام یہودی دین کے نام پر اس میں پھنس گیا۔
اسی لئے یورپ اور اسرائیل کے وہ سرغنہ جنہوں نے یہ جنگ شروع کی ہے انکے لئے دقیق لفظ صہیونیسم کا استعمال کیا جاتا ہے، اب یہاں پر مسیحیت یعنی امریکہ اور یورپ کی پالیسی یہ ہے کہ جب یہودی اور مسلمان لڑ لڑ کر تھک جائیں گے تو ہم مصلح بن کر انکے درمیان صلح کروائیں گے اور بیت المقدس کو اقوام متحدہ کے زیر سایہ قرار دیکر خود حکومت کریں گے۔

اب آپ سب کا سوال یہ ہو گا کہ خود اسرائیل کا کیا بنے گا تو مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل نامی ایک چھوٹا سا ملک فلسطین کی طرح بنا دیا جائے گا تاکہ ایک طرف اس تھانیدار کے ذریعے عربوں کو کنٹرول کیا جا سکے تو دوسری طرف یہودیوں کو یورپ سے دور رکھا جائے، اسی لئے سب ہمیشہ 1967ء سے پہلے والی حالت کی بات کرتے ہیں، اس خطے میں مسلم آبادی کے اعتبار سے شافعی مکتب کی اکثریت ہے حتی شیعہ افراد اور 3 امام بارگاہ موجود ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہودی اور مسیحی بڑی تعداد میں منتقل ہوتے جا رہے ہیں، جس طرح تین چار سو سال پہلے امریکہ میں برطانیہ اور یورپ نے وہاں کی مقامی آبادی یعنی ریڈ انڈین کو مار دیا یا ہجرت پر مجبور کر دیا بالکل وہی کہانی فلسطینوں کے ساتھ دوہرائی جا رہی ہے اور اس وقت امریکہ کی طرح یہاں پر غیر مسلم آبادی 70% سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف عالم اسلام کی موجودہ صورتحال، مسلمان حکمرانوں کی پلاننگ اور استعمار کی گرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ 100 سے 200 سال تک مسلمانوں میں سوائے معجزے  کے کوئی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آ رہا، کلاس روم کے آخر میں بیٹھی کلثوم نے فوراً سب کی توجہ کچھ عرصہ پہلے کہ سعودی ولی عہد کے اس بیان کی طرف دلائی کہ ایران، سعودی عرب اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ہے جبکہ اسرائیل کے یہودیوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔ پھر میڈم بولیں ہاں وہ بیان یاد آیا یقیناً سعودی ولی عہد کے اس بیان پر پوری امت مسلمہ کو افسوس ہوا تھا، آخر میں بندہ حقیر نے جمع بندی کرتے ہوئے عرض کی کہ اسی لئے ظاھری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ بیت المقدس کی حالت 19ویں صدی سے پہلے کی طرح ہو جائے گی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ایک انٹرنیشنل ملکیت قرار دے دیا جائے گا۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬