06 January 2019 - 19:03
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 439069
فونت
امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی نے ٹرمپ فاؤنڈیشن اور سعودی ولی عہد کے درمیان مشکوک تعلقات سمیت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرائیویٹ تجارتی معاملات کی جانچ پڑتال کا اعلان کیا ہے۔
محمد بن سلمان اور ٹرمپ

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی کے سینیئر رکن ایرک اسوال ویل نے بتایا ہے کہ انٹیلی جینس کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی تعلقات کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے جس میں ٹرمپ فاؤنڈیشن اور سعودی ولی عہد کے درمیان مشکوک لین دین کے معاملات بھی شامل ہیں۔

ایریک کا کہنا تھا کہ امریکہ میں سعودی لابی، سن دو ہزار سولہ میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سے ان کے ہوٹلوں کی سب سے بڑے کلائنٹ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

امریکی وزارت انصاف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی حکومت سے وابستہ ایک ادارے نے گزشتہ سال مارچ میں ٹرمپ فاؤنڈیشن کے ہوٹلوں میں کمروں کے رینٹ اور کھانے کے آرڈر کے لیے دو لاکھ  ستر ہزار ڈالر ادا کیے ہیں۔

امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودیوں نے یہ اخراجات بااثر ریٹائرڈ امریکی عہدیداروں کی میزبانی کی غرض سے کیے تھے جس کا مقصد امریکی کانگریس میں، اس بل کی مخالفت کے لیے لابنگ کرنا تھا جو امریکی شہریوں کو گیارہ ستمبر کے واقعے میں ملوث ملکوں کے خلاف شکایت درج کرانے کی اجازت دیتا ہے۔

میری لینڈ اور واشنگٹن کے اٹارنیز نے سعودی حکومت کے اس اقدام کو ٹرمپ کے لیے ایک تحفہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امریکی آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی آسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک سعودی حکمرانوں کی کھلے بندوں حمایت کرتے چلے آرہے ہیں اور انہوں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے بھی سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا جہاں انہوں نے چار سو ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے جن میں سے ایک سو دس ارب ڈالر مالیت کے معاہدے صرف اسلحے کی خریداری سے متعلق تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور سعودی حکام کے درمیان تعلقات اور مشکوک رابطے اس قدر گہرے ہیں کہ وائٹ ہاؤس نے ترکی کے شہر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر خاموشی اختیار کرنے کے ساتھ اسے دبانے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬