
ممتاز عالم دین اور جعفریہ الائنس کے سربراہ سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی طویل علالت کے باعث کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 70 برس تھی۔
تفصیلات کے مطابق ممتاز شیعہ عالم دین اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ طویل عرصہ سے علیل اور کراچی کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے علامہ عباس کمیلی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مرحوم اچھے انسان اور عالم دین تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے علامہ عباس کمیلی کےانتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ عباس کمیلی اتحادبین المسلمین،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مضبوط آواز تھے۔ْ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اورسوگواران کوصبرعطافرمائے۔
وزیر اعظم نے علامہ عباس کمیلی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور سوگواران کو صبر عطا فرمائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی علامہ عباس کمیلی کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ علامہ عباس کمیلی کی بطور عالم دین شخصیت اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ علامہ عباس کمیلی اتحاد بین المسلمین کے بڑے وکیل تھے۔
علامہ عباس کمیلی گزشتہ چار ماہ سے کراچی کے علاقے سولجر بازار میں واقع ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں آج وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
ترجمان جعفریہ الائنس پاکستان کے مطابق علامہ عباس کُمیلی کو ایک روز پہلے ہی طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے اور فاطمیہ اسپتال نمائش چورنگی میں انتقال کرگئے۔
وہ جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ تھے، علامہ عباس کمیلی ہمیشہ اتحادبین المسلمین کے لئے سرگرم عمل رہے.
علامہ عباس کمیلی فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کےسرپرست اراکین میں سےتھے، انھوں نے ہمیشہ فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کے لئے آواز اٹھائی.
ان کا شمار جعفریہ کے ممتاز اسکالرز میں ہوتا تھا. ان کے انتقال پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے.
ان کی نماز جنازہ میں گورنرسندھ سمیت سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی، ان کی تدفین چاکیواڑہ علی باغ قبرستان میں کی جائےگی۔