13 June 2020 - 15:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442937
فونت
مولانا سید صفی حیدر :
امریکہ کے موجودہ حالات پر بیان جاری کرتے ہوئے ادارۂ تنظیم المکاتب کے سکریٹری نےفرمایا: اسلامی اصولوں پر عمل در آمد ہی حکومت کی کامیابی کی ضمانت ہےکیوں کہ اسلامی اصول حکومت نہ صرف انسان بلکہ ہر ذی حیات بلکہ ہر مخلوق کی قدردانی۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے موجودہ حالات پر بیان جاری کرتے ہوئے ادارۂ تنظیم المکاتب کے سکریٹری مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ نےفرمایا: اسلامی اصولوں پر عمل در آمد ہی حکومت کی کامیابی کی ضمانت ہےکیوں کہ اسلامی اصول حکومت نہ صرف انسان بلکہ ہر ذی حیات بلکہ ہر مخلوق کی قدردانی۔ حفاظت اور پاس و لحاظ کا سبق دیتے ہیں۔

اسلام میں کمزوروں کا حق ، مظلوم کی داد رسی پہلےہے، کمزور کی مدد اور تنگدست کی خبرگیری جیسی نہ جانے کتنی تعلیمات ہیںجو پورےمعاشرہ کو آپسی میل جول ، محبت اور بھائی چارہ کا سبق دیتی ہیں۔ اسلامی حکومت کے بس دو ہی نمونے پوری تاریخ میں ملتے ہیں۔

۱۔ مدینہ منورہ میں تقریبادس سالہ حکومت پیامبرگرامی ﷺ
۲:۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی ظاہری خلافت تقریباًسوا چار سال کی حکومت۔
باوجودیکہ ان حضرات کے دور حکومت کا بڑاحصہ دشمنان دین و انسانیت سے مقابلہ کرتے ہی گذر گیا پھر بھی اس مختصر مدت میں اسلامی نظام حکومت کے جو نمونے یہ اولیاء دین چھوڑ گئے وہ رہتی دنیا تک تمام حکام کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ جنکی جھلکیاں اسلامی جمہوریہ ایران میں ہر قدم پر دکھائی دیتی ہیں۔


رسول اللہ ﷺکی مدینہ منورہ میں تقریباً دس سالہ حکومت میں انسانی اقدار کوشناخت ملی، انکی حکومت میں قانون سب کے لئے برابر تھا ، انصاف تھا، مساوات تھی عرب و عجم، گورے کالے ، انصار و مہاجر اور امیر وغریب کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا اسی طرح چار برس چند ماہ کی حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی حکومت میں بھی یہی اصول جلوہ فگن تھے۔ اس دور میں صرف حاکم مسلمان نہیں تھا حکومت بھی اسلامی تھی اسی لئےامیرالمومنین علیہ السلام نے جب ایک عیسائی بوڑھے کو بھیک مانگتے دیکھا تو آپ بے چین ہو گئے اور اپنے عملہ سے دریافت کیا یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ جواب ملا کہ اہل کتاب ہے، فرمایا جب طاقت تھی کام لیا اب بوڑھا ہو گیا تو لاوارث چھوڑ دیا اور اسکے لئے بیت المال سےاخراجات معین کئے، اسی طرح ایک ذمی خاتون کے پازیب جب لشکر معاویہ نے سرحدوں پر حملہ کر کے چھین لئے تو آپ تڑپ گئے۔ اور منبر پر آکر خطبہ دے کر غیرت دلائی ۔ ہر دور ہر زمانے کو ایسے ہی حاکم کی ضرورت ہے جو ان اصولوں پر حکومت چلائے اپنے کو آمر نہیں بلکہ خادم سمجھے۔ حکومت کے کمزور ترین، نادار ترین باشندوں جیسی زندگی بسر کرے۔

انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والاامریکہ آج خود اپنے عالمی جرائم کے سبب اپنے ہی عوام کےشدید احتجاج کے نشانے پر ہے، امریکہ کی موجودہ صورت حال وائٹ ہاوس کے کالے کرتوتوں کا نتیجہ اور گوروں کے سیاہ کارناموں کا ثمرہ ہے۔ امریکہ جو دوسرے ممالک کے عوام کی مظلومیت کا بہانہ بناکر ان ممالک پر فوجی یلغار کر رہا ہےیا معیشتی پابندی لگارہاہےاور انتہائی سفاکی سے لاکھوں لوگوں بلکہ نسلوں کو مٹا رہا ہے اس ملک کی بنیادیں ظلم پر پڑی ہیں۔ ان کے پرکھوں نے ریڈ انڈین کی لاکھوں کی آبادی کو فنا کر کے غاصبانہ قبضہ کر کے حکومت بنائی ہے۔مگر آج یہ اسلامی انقلاب کا اثر ہےکہ خود امریکی عوام کے احتجاج نے اسکے تمام انسانی حقوق کی پاسبانی کے نعروں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سکریٹری تنظیم المکاتب نے کہا: شہید جنرل قاسم سلیمانی جن کی پوری زندگی مظلوم کی حمایت میں گذری انھوں نے امریکی حکمراں کو للکارا تھا کہ ہم تم سے بہت نزدیک ہیں، تمہاری سوچ سے زیادہ نزدیک ہیں ۔ہم نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ کیا فرمایاہےمگر اب دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی حکمراں نے انکو شہید کر کے سمجھا کہ وہ ختم ہو گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا خاکی اور محدود وجود آسمانی اور کائناتی ہو گیا اور جو باتیں انھوں نے کہی تھیں انکا وقوع آج سب کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ بغداد میں شہید ہونے والے کرمان شاہ میں دفن ہو گئے لیکن انکا مشن امریکہ تک پہنچ گیا کہ ہم تم سے بہت نزدیک ہیں۔ دنیا نے مشاہدہ کر لیا کہ شہید کےقتل کا مجرم اپنےہی ملک میں چھپ کر زندگی کی بھیک مانگ رہا ہےاور خیانت کرنے والا بھی اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکا ہے۔

مولانا سید صفی حیدر نے فرمایا : ظالم حکمرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے ظلم و ستم، فتنہ و خونریزی کے سبب اپنے انجام کو پہنچے، اموی حکمرانوں ، عباسی کشور کشائی کرنے والوں کانیست و نابودہونا، دور حاضر میں ایران کی ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ، عراق، لیبیا اور تیونس میں ظالموں کی حکومتوں کا خاتمہ انہیں ظلم وستم، قتل و خونریزی اور انسانی اقدار کی پامالی کے سبب ہوا، امریکہ اور اس کے زر خرید سعودی عرب سمیت دنیا کے تمام ظالم حکمرانوں کو اس سے عبرت حاصل کرنا چاہئیے، نیزاس امت کے دو عادل حاکم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی حکومتی اور سیاسی سیرت کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے تا کہ خود بھی سکون واطمینان سے رہیں اور دنیا میں عدل و انصاف اور امن و سکون قائم ہوسکے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں