17 August 2020 - 12:49
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443475
فونت
بانیان مجالس و جلوس ہائے عزا اس ماہ محرم کو ایک چیلنج سمجھیں اور یہ سوچ و فکر کریں کہ اسوقت دنیا ان پر نظریں گاڑے ہوئے ہے اور کسی بھی غلطی، گستاخی یا اشتعال انگیزی کا فائدہ ہمارے دشمن نے اٹھانا ہے، جو ایسے موقعہ کی طاق میں ہے تو صورتحال بہتر رہے گی۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  جشن آزادی گذر گیا ہے اور ہم نے بڑے بڑے باجوں سے قوم کا سر کھا کر آزادی کا اعلان کیا، ایک دوسرے کے ناصرف کان پھاڑے بلکہ مارکیٹس، شاہراہوں، سیر گاہوں اور بازاروں میں نکل کر "کرونا" کو بھی اپنے تئیں شکست دے دی اور اس کا جشن بھی ساتھ ہی منا لیا۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس جشن آزادی کے دن ہم نے دو آزادیاں منائیں۔ پانچ ماہ کی بندشوں سے آزادی اور انگریزوں سے الگ وطن حاصل کرنے کی آزادی۔۔۔۔ اللہ یہ جذبے سلامت رکھے اور یہ سوچ چند دن اور ایسے ہی رہے، تاکہ محرم الحرام میں اپنے روایتی تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواسہء رسولۖ کے غم کے ایام کو کرونا کے پھیلائو کا ذریعہ قرار نہ دیں۔ ایشوز بہت سے ہیں جن پہ لکھنا ہے، مگر کیا کریں کہ لمبی بات یا لمبی چوڑی تقریر یا لیکچر اب کارگر نہیں ہوتے، سوشل میڈیا کی چکا چوند میں کس کے پاس اتنا وقت کہ سوچے اور سمجھنے کی کوشش کرے، مسائل کے انبار میں اصل مسئلہ کو جانچے اور اس کے حل کیلئے مناسب تجاویز دے، لہذا ہم بھی اسی ڈر اور فکر سے اختصاریہ ہی اختیار کرنے میں عاقبت بخیر سمجھتے ہیں۔

جیسا کہ کہا گیا کہ مسائل بہیں، امت مسلمہ کے مسائل، استعمار گردی اور بدمعاشیاں، ایران سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی تخریبی کارروائیاں اور لگنے والی آگ، لبنان میں ساحل سمندر پر بدترین بم دھماکہ اور اس کے پس پردہ عوامل و مقاصد۔ اب تازہ ترین سانحہ عرب امارات کی طرف سے فلسطینی بھائیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا سانحہ اسرائیل کیساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان اور اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پہ تسلیم کرنے کا انتہائی ظالمانہ اقدام۔ دوسری طرف ہمارے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی صاحب کا سعودیہ کے حوالے سے ایک بیان جس کے بہت چرچے ہوئے کہ شاہ محمود نے حق بات کہہ دی، سوشل میڈیا پر بھی "ارتغل غازیوں" نے بہت پوسٹیں چڑہائیں اور سعودی بدوئوں کو للکارا۔

اسی دوران ایک سعودی ریال خور مئے لانا کا فوری دورہ سعودی عریبیہ، پاکستان کا تیل بند کرنے اور قرض واپس کرنے کے نوٹسز اور اب جناب آرمی چیف کا طے شدہ دورہ سعودیہ، جس میں غلط فہمیاں دور کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سب پہ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ عقل رکھنے والوں کیلئے ان میں بہت سی نشانیاں ہیں کہ سعودیہ کے خلاف یہ بیان اپنی مرضی سے دیا گیا یا پھر طے شدہ پروگرام تھا۔ اس لئے کہ اس سے قبل موصوف وزیر خارجہ ایران کے خلاف ایسے کئی بیانات نازک صورتحال میں دے چکے ہیں، بالخصوص جب ایران کا دورہ ہونے والا تھا تو بلوچستان میں کئی سو کلومیٹر آکر بلوچستان میں ایرانی بارڈرز فورسز کی کارروائی کا بھونڈا الزام لگایا گیا تھا، اسی طرح جب صدر روحانی نے پاکستان کا دورہ کرنے کیلئے قدم رکھا اور ان کا ستقبال کیا جا رہا تھا تو کلبھوشن یادیو کا قصہ سامنے لایا جانا، یہ سب طے شدہ منصوبے کے طور پہ تھا۔

شاہ محمود قریشی جو الفاظ کو بہت ہی سوچ سمجھ اور چبا چبا کر بلکہ مفتی منیب الرحمان سے بھی بڑھ کے بولنے کے عادی ہیں، ان سے کیسے توقع کیا جا سکتی ہے کہ وہ اس طرح کا الزامانہ یا شکوہ کے انداز میں سعودیہ کو کچھ یاد کروائیں، ویسے یہ وزارت خارجہ کب سے اتنی کھلی ڈلی ہوگئی، اسے کس نے آزاد کر دیا۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ یہ شعبہ ہمارے ارباب اقتدار کے پاس کس حد تک آتا ہے۔ بات کہاں سے شروع ہوئی تھی، کہاں پہنچ گئی۔ اس سب کے باوجود ہمیں اس وقت اگر کچھ سوچ، سمجھ اور فکر ہے تو وہ آمدہ محرم الحرام ہے، محرم الحرام سے قبل پاکستان میں جو ماحول بنایا گیا ہے اور جس کیلئے بڑی بھاگ دوڑ اور منصوبہ بندی ہو رہی ہے، وہ بہت ہی خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ وزیر مذہبی امور نے تو کہہ دیا ہے کہ ایک فرقہ واریت پھیلانے کی سازش اسرائیل سے کی جا رہی ہے۔

ہم بھی ہمیشہ سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ ایک منظم سازش کے تحت ایک طرف تو آئمہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کے خلاف نازیبا کلمات اور بیانات دے کر قوم کے جذبات کو ابھارا گیا ہے، تاکہ مقابلے میں غصہ میں آکر اصحاب رسول اکرم رضی اللہ عنہم کو دشنام دیا جائے اور ملک میں آگ و خون کا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے، قتل و غارت اور دہشت گردی جو کسی حد تک قابو میں آچکی ہے اور اس کے خاتمہ کیلئے ان گنت بے گناہوں کا لہو بر سرعام بہایا گیا گیا ہے، اگر اس حوالے سے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مکتب تشیع کے ماننے والوں نے اس ملک و مملکت کے قیام اور اس کے استحکام و سلامتی کیلئے جتنی قربانیاں دی ہیں، وہ ایک ریکارڈ ہے، اس کے باوجود کہ ہم اس ملک کی ایک بڑی آبادی ہیں اور کچھ علاقوں میں نوے فی صد سے زیادہ ہیں، وہاں بھی ہم نے کسی دوسرے مکتب فکر کے ماننے والے کیلئے زندگی تنگ نہیں کی اور نہ ہی کسی کے خلاف بندوق اٹھائی ہے۔

ہمیں اپنے مقدسات، عقائد، مقامات، شخصیات، بزرگان اور قائدین کی حفاظت کا حق حاصل ہے اور یہ ذمہ داری ریاست کی بھی بنتی ہے کہ وہ یہ سب ہر ایک مذہب و مکتب کے ماننے والے اپنے شہری کو یہ حقوق دے۔ بدقسمتی سے ہمارے ساتھ یہ ناروا اور متعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے، ہمیں ایران کے ساتھ متصل کیا جاتا ہے جبکہ ہم نے قربانیاں اس ملک و وطن کیلئے دی ہیں اور دے رہے ہیں۔ ہم انقلاب اسلامی ایران کو برپا کرنے کیلئے میدان جہاد میں کبھی نہیں گئے تھے، ہمارے بزرگان نے اس پاک سرزمین پہ جنم لیا، اس کی بقا و سلامتی کا حلف اٹھایا، قائد اعظم محمد علی جناح رہ کا ساتھ دیا اور آج تک انہی کی فکر و سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک کی خدمت کر رہے ہیں اور کرتے رہینگے۔

عزاداری امام حسین علیہ السلام کیلئے ہم کسی بھی سطح تک جا سکتے ہیں، یہ سب کو معلوم ہے، ہم اس کی راہ میں کسی رخنہ اندازی یا رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے، یہ ایک طے شدہ بات ہے، اس حوالے سے اگر کوئی بڑھکیں مار کر کسی کو خوش کرنا چاہتا ہے، بھلے سے کرے۔ یہ اس کی دال روٹی کا مسئلہ ہوگا، وگرنہ "کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ" ان کا باپ بھی قبر سے نکل آئے تو پیروان امام حسین علیہ السلام اور کربلا کے فرزندان کو ان کے بنیادی حق، ان کی عبادت، ان کے احتجاج، یزید و آل یزید کو چوکوں، چوراہوں، شاہراہوں، گلیوں، محلوں اور عبادت خانوں میں ننگا کرنا، ان کے مظالم آشکار کرنا اور آل نبی و اصحاب باوفا رضوان اللہ کے مقدس خون میں ہاتھ رنگین کرنے والوں کو سامنے لاتے رہینگے اور تاریخ کے اس سیاہ باب کو جو نام نہاد مسلمانوں کے ماتھے پر کلنک کی طرح موجود ہے، سامنے لاتے رہینگے۔ ہاں ہمیں اس عظیم درسگاہ، اس منفرد یونیورسٹی سے ملنے والے سبق اور قربانی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں اور رکھیں گے۔

ہمیں اپنا مکتب عزیز ہے، جس میں کسی کی دخالت کو ناجائز سمجھتے ہیں، ہمیں دوسروں کے مکتب کا احترام کرنے کا سلیقہ کربلا والوں سے ہی ملا ہے، لہذا عزاداری کو اس طرح ہی برپا ہونا چاہیئے جیسا اس کا حق ہے اور منبر حسین کسی ایسے کے ہاتھ میں نہیں جانا چاہیئے کہ جو مکتب کی شرمندگی کا باعث بنے، جو قوم کیلئے مشکلات کا سبب بنے، جو ہمارے بنیادی عقائد جنہیں ہمارے آئمہ علیہم السلام نے طے کر دیا ہے، پر اپنے من گھڑت نظریات کی منحوس پرچھائیں نہ ڈالے، جس کا کہا گیا ایک ایک لفظ اس کے کردار کی گواہی ہو اور جس کی زبان اس کے عمل کی آئینہ دار ہو، اگر ہمارے بانیان مجالس و جلوس ہائے عزا اس ماہ محرم کو ایک چیلنج سمجھیں اور یہ سوچ و فکر کریں کہ اس وقت دنیا ان پر نظریں گاڑے ہوئے ہے اور کسی بھی غلطی، گستاخی یا اشتعال انگیزی کا فائدہ ہمارے دشمن نے اٹھانا ہے، جو ایسے موقعہ کی طاق میں ہے تو صورتحال بہتر رہیگی۔ ہمیں اپنی ملت سے یہی امید ہے کہ وہ اصول و ضوابط جو طے کر دیئے جاتے ہیں، ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گی اور ہم انتظامیہ و حکمرانوں سے بھی یہی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں یا کہیں بھی چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کو کسی بھی طور موقعہ نہ دیں کہ وہ اپنے خبث باطن اور متعصبانہ سوچ کے ذریعے اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو دائو پر لگائیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬