13 September 2020 - 08:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443682
فونت
حجت الاسلام علامہ راجہ ناصرعباس جعفری :
جلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ فتنہ گر اس وقت وطن عزیز میں اپنی سازشوں میں ہیں ، انہیں پہلے کی طرح کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق علماء و ذاکرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہاکہ مکتب تشیع کی اجتماعی جدوجہد اور مبارزات کی تاریخ میں آج کا دن ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت اہمیت کاحامل ہے۔قوموں کی تاریخ میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں، ایسا مکتب جو ظلم ستیز ہو ، طول تاریخ میں ہم نے مشکلات کا دور گزارا ہے۔آج سوشل میڈیا کا دور ہے، ہمیں علمی و تحقیقی انداز میں اپنا نظریہ بیان کرنا چاہیے۔میڈیا پر توحیدِ شیعہ، مناجات محمد و آل محمدؐ، دعائیں و اخلاقِ آل محمد ،ؐمکتب تشیع کے اصول و فروع کوتقابلی انداز میں اچھی حکمت و تدبیر کے ساتھ بغیر کسی کی اہانت کے بیان کرناچاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ گر اس وقت وطن عزیز میں اپنی سازشوں میں ہیں ، انہیں پہلے کی طرح کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔یہ اجتماع اس بات کی دلیل ہے کہ ان قوتوں نے شکست کھانی ہے ، ناکامی ان کا مقدر ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہم منظم انداز میں آگے بڑھیں اور اپنے امور کو ترجیحی بنیادوں پر استوار کریں۔ ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہوگا، علماء، خطباء اور واعظین کے ساتھ موثررابطے رکھنے ہوں کے ان کی اصلاح کرنی ہوگی ۔ اربعین حسینی ؑ کو پرشکوہ انداز میں منعقد کرنا چاہئے، یہ دن مکتب تشیع کی قدرت اورطاقت کی تجلی قرار پانا چاہئے۔ ہمیں متعدل اہل سنت علماء کےساتھ اپنے رابطوں کو منظم کرنا ہوگا، انہیں عالمی سازشوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اتحاد ووحدت کے عنوان سے مشترکہ اجتماعات منعقد کرنا ہوں گے ،ربیع الاول میں جشن میلاد النبی ؐ کو شیعہ سنی کو مل کر منانا چاہیے۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ دشمن بیدار ہے ، ایک معمولی ذاکر کی بات کو اتنی اہمیت دی گئی اور ہمارے فقہاء کے مقدسات اہل سنت کے احترام کے فتاویٰ کو یکسرنظر اندازکردیا گیا، ایک دو افراد کی غلطی کے سبب پوری قوم کو زیر سوال نہیں لایا جاسکتا ہم آپ کے مسلمہ مقدسات کی توہین نہیں کرتے،الحمداللہ شیعہ فقہاء کا فتوی ہے کہ مقدسات کی توہین جائز نہیں ہے،لیکن اس سے آگے نہ بڑھو ڈو مورکا مطالبہ قبول نہیں، دباؤ کے ذریعہ، چند مظاہرےکر کے تم کچھ حاصل نہیں کرسکو گے اس سے فقط فتنہ و فساد ہوگا، ملک کو نقصان پہنچائو گے، لہٰذا ہمارے فقہاء و بزرگان دین نے جو خطوط اور لائن ہمارے لیے مقرر کی ہے ہم اسی میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے بیان کیا کہ اہل سنت ہمارے بھائی ہیں ہم مل کر رہیں گے،آپ کے جذبات کا احساس کرتے ہیں، آپ کا خیال رکھتے ہیں لہٰذا آپ بھی ہمارے جذبات و احساسات کا خیال رکھیں ، آپ بھی اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کے بارے اس طرح کی بات نہ کریں کہ ان کو آپ صحابی بنا دیں اور پھر کہیں کہ ان کا احترام آپ پر واجب ہوگیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬