‫‫کیٹیگری‬ :
02 October 2013 - 16:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6013
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مغربی ممالک، امریکا اور ایران کے ما بین ہونے کے مذاکرات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ایران کی طرح مغربی ممالک اور امریکا بھی اپنا اعتماد بحال کریں ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے آج صبح مسجد اعظم قم میں ہونے والے درس خارج فقہ کے اغاز پر سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کے بیچ خطاب میں کہا : امریکا ، مغربی ممالک اور ایران کے باہمی تعلقات کے حوالہ سے ایرانی حکمرانوں نے اپنی پوری توانائی صرف کردی اور اب مغرب ممالک اور امریکا کی باری ہے کہ اس امتحان میں کامیاب ہوں گے یا فیل ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کی ناکامی اور خلاف ورزی کی نشانیاں ظاھر ہوچکی ہیں کہا: ہم دست مصالحت دراز کرتے ہیں مگر اس کے مقابل وہ ایران پر فوجی اٹیک میز پر ہونے کی خبر دیتے ہیں ، ہم نے انہیں سمجھنے کی کوشش کی مگر ان کا کہنا کہ ہم ایران سے پابندیوں کے ہٹانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ، ہم اعتماد برقرار کرتے ہیں مگر وہ اعتماد کھو دیتے ہیں ۔ 


اس مرجع تقلید نے مغربی ممالک اور امریکی حکمرانوں کو خطاب میں کہا: بعض افراد کی تنقید کے باوجود کہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا ایرانی حکمرانوں نے اپ کے ساتھ حسن نیت کا اظھار کیا اور اب اپ کس طرح ہمارا اعتماد حاصل کریں گے ؟ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک طرفہ ہی اعتماد سازی ہوگی  ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مذاکرہ میں اپنے حکمراںوں کو ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: مذاکرہ کا نتیجہ ملحوظ نظر رہے اور متوجہ رہیں کہ طرف مقابل اپ کے ساتھ کس طرح پیش اتا ہے ؟  ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ناکام نہ ہوں کیوں کہ ہم ایک عرصہ سے امریکا اور مغربی ممالک کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اب ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنا اعتماد بحال کریں ۔


اس مرجع تقلید نے بیان کیا: ہم ان مسائل کے علاوہ خدا کی رحمت اور اس کے کرم سے بھی لو لگائے رکھیں کیوں کہ اس کی عنایت سے ابھی تک ہمارے دشمن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ، اور ائندہ بھی خدا رحمت و نصرت ہمارے اور دنیا کے مسلمانوں کے شامل حال رہے گی ۔  


انہوں نے دسویں امام علی نقی امام هادی(ع)سے منقول حدیث کے ائینہ میں اخلاقی نکتہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا : انسان کا حرص اور اپنی ارزوں کے مکمل نہ ہونے کی بہ نسبت یاس و نا امیدی ، حقیقی فقر و غربت کا مصداق ہے  ۔ 


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے فقر اور بے نیازی انسانوں کے اہم ترین مسائل میں شمار کیا اور کہا: فقر اور بے نیازی کے سلسلہ میں اسلام کی بہت ساری تفسیریں ہیں ، انسان اپنی تمناوں کا دامن کوتاہ رکھے اور معتدل ، سادی اور ابرو مند زندگی بسر کرے  ۔


اس مرجع تقلید نے لالچی انسان کو فقیر انسان جانا اور کہا: اگر طرز زندگی ،  شادیاں اور لوگوں کے دیگر پروگرام سادے ہوں تو انسان مشکلات سے نجات پا جائے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬