‫‫کیٹیگری‬ :
09 March 2014 - 19:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6510
فونت
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ:
رسا نیوز ایجنسی – سرزمین پاکستان کے نامور شیعہ عالم دین حجت الاسلام و المسلمین سید ساجد علی نقوی نے اس بات کی تاکید کی: صرف شیعوں ہی کو نہیں بلکہ محروموں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کا وقت ہے۔
حجت الاسلام و المسلمين سيد ساجد علي نقوي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین سید ساجد علی نقوی نے پشاور میں بزرگ شیعہ راہنما عالم موسوی مشہدی کی مجلس چہلم میں خطاب کے دوران کہا: جن سے مذاکرات ہو رہے ہیں انکی حقیقت کا کسی کو علم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں ۔


انہوں نے مزید کہا: ہم کئی ماہ سے قومی سلامتی پالیسی کے منتظر ہیں جس کے خدوخال اب تک واضح نہیں ہیں ۔


حجت الاسلام و المسلمین نقوی نے شہید عالم موسوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا : یقیناً حق بنتا ہے اس شہید کا جس نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ملت کے حقوق اور سربلندی کیلئے جدوجہد میں گزارا، اور آخر اپنی جان بھی ملت کے مفاد کیلئے قربان کردی۔ حق بنتا ہے اس شہید کا کہ اس کی یاد شایان شان طریقے سے منائی جائے اور اسے اچھے انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے۔


انہوں نے قومی پلیٹ فارم کے سفر کو بیان کرتے ہوئے کہا : شہید عالم موسوی بھی اسی ملی پلیٹ فارم کا حصہ تھے، جس قومی پلیٹ فارم نے ہمیشہ تشیع کے حقوق کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور آج بھی بزرگان اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس طرح ماضی میں شہداء نے اپنا کردار ادا کیا، مشکل اور پیچیدہ حالات میں کردار انجام دیا اور دے رہے ہیں۔


ایس یو سی پاکستان کے سربراہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ تشیع کے بارے میں یہ سوچ رائج تھی کہ یہ محدود سوچ کا حامل طبقہ ہے، تنگ نظر اور علاقائی سطح میں محدود لوگ ہیں، اور ظاہر ہے ملی و ملکی حالات میں، پاکستان کی سیاست میں، پاکستان کے نظام میں، پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی معاشرت میں تشیع کا کوئی رول نہیں تھا، ملی پلیٹ فارم نے ان کی اس سوچ کو عملی انداز میں تبدیل کیا کہا: پاکستان واحد ملک ہے جہاں ملک کی دینی جماعتوں کو، دینی مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر تنظیمی لحاظ سے منسلک کرنے کی بھرپور کوششیں ہوئیں اور ان کوششوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ ان دینی جماعتوں کو ایک جماعت کی حییثیت سے متعارف کروایا اور اس میں ملی پلیٹ فارم کا بنیادی کردار رہا ہے۔


انہوں نے سانحہ عاشورہ راولپنڈی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا :  پورا سرمایہ لگایا گیا اور عزاداری کے خلاف ایک غبارہ بنایا گیا، مگر ہم نے اپنی حکمت عملی سے اس غبارے کی ہوا نکال دی اور اس کے بعد حکمرانوں نے جب یہ دیکھا کہ جلوس تو یقیناً نکلے گا تو کہنے لگے جلوس کے روٹ کو تبدیل کیا جائے۔ ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ملی یکجہتی کونسل کے دو اجلاس بلائے اور متحدہ مجلس عمل کا اجلاس، جو  طویل عرصے تک نہیں ہوا تھا، اس کا اجلاس بھی بلایا۔ اس کے بعد انتظامیہ اور حکمرانوں نے کہا دوسرے جو گروپ ہیں ہم ان کو منالیں گے، بس ہمیں آپ کی حمایت کی ضرورت ہے۔ میں نے ان کو کہا ہمارا تعاون تو ہوتا ہے لیکن آپ سے نہیں بلکہ قانون کے نفاذ کیلئے ۔


حجت الاسلام و المسلمین نقوی نےمزید بیان کیا: نمائندگی ولی فقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کے اصل حکمران ہم ہیں، اسی لئے اس ملک میں امن و امان کی بحالی کیلئے ہم نے ہمیشہ تعاون کیا ہے، مگر سن لو کہ ہم نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔


شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے مذاکرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا : ابھی تو شور مچایا جا رہا ہے کہ مذاکرات کے بعد شریعت کا نفاذ ہوگا یا فلاں ہوگا، آپ کو گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں کئی بار بتا چکا ہوں کہ ہم نے اس ملک کے اداروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیئے ہیں جہاں سے اب سازش کا پرزہ پھینکا بھی نہیں جاسکتا۔ عوام کو پتہ نہیں کہ جن سے مذاکرات ہو رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں؟ اور آپ کے قاتل کون ہیں؟ اب جن سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں میں ان کا نام نہیں لیتا، کیونکہ میں ان ناموں کو حقیقت نہیں سمجھتا ہوں۔ اس لئے کہ میں ایک گوٹھ سے لیکر کراچی کے بڑے بڑے صحافیوں سے پوچھتا رہا کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کی تعریف بتادو؟ مگر آج تک کوئی تعریف نہیں بتاسکے، اب قومی سکیورٹی پالیسی مرتب کی ہے تو میں سوال کرتا ہوں کہ اتنے شیعہ قتل ہوئے تو تمہاری سکیورٹی پالیسی شیعہ کے قاتلوں کے بارے کیا کہتی ہے؟


 سرزمین پاکستان کے نامور شیعہ عالم دین نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اگر قومی سکیورٹی پالیسی سامنے آئی تو ہم حکمرانوں کے ساتھ ہیں، کیونکہ حکومت ضرور چاہئے، نظام اور سسٹم چاہئے، لوگوں کو سکون چاہئے، امن اور راحت چاہئے کہا: اگر سیکیورٹی پالیسی نہیں بناسکتے ہو تو اب منزل وہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف شیعوں کو نہیں بلکہ محروموں کو بھی خود تحفظ فراہم کریں۔


واضح رہے کہ شہید عالم موسوی کی مجلس چہلم میں ایس یو سی خیبر پختونخوا کے صدر حجت الاسلام رمضان توقیر، ایس یو سی کے مرکزی سکریٹری اطلاعات زاہد اخونزادہ اور دیگر تنظیمی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ سندھ سے معروف عالم دین حیدر علی جوادی نے بھی اس مجلس میں موجود تھے ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬