رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق اسٹریلیہ کے سابق مفتی تاج الدین الهلالی نے ایران کے مقدس شہر قم میں حضرت معصومہ (س) کے روضہ مقدس میں منعقدہ نماز جمعہ کے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں عقیلہ بنی هاشم حضرت زینب (س) کے روز ولادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہل بیت (ع) سے عشق و محبت کو اپنا مقصد و عقیدہ جانا ہے اور بیان کیا : میری شب و روز ائمہ اطہار (ع) کے عشق و محبت میں گذرتی ہے ۔
انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : میں حیران ہوں کہ آپ شیعوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لخت جگر حضرت زہرا (س) کی شہادت کی تعزیت پیش کروں یا ان کی دختر گرامی حضرت زینب (س) کے روز ولادت کی مبارکباد پیش کروں ، آپ لوگ اگر اسلامی جمہوریہ ایران میں حضرت زینب (س) کی روز ولادت کے موقع پر ایک روز محفل و جشن و خوشی مناتے ہیں تو ہم مصر میں ان ایام مبارک کی مناسبت سے سات روز جشن و سرور میں مشغول رہتے ہیں ۔
الازہر مصر کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ تحقیقات کے مطابق میں جس نتیجہ پر پہوچا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت زینب (س) نے ابتدائے شعبان سن 61 ہجری قمری میں مصر کی طرف مہاجرت کی، اظہار کیا : ان کی طرف سے یہ مہاجرت کربلا کے سخت و غم اندوہ واقعہ کے بعد پیش آیا ۔
انہوں نے وضاحت کی : جس طرح کہ مدینہ منورہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک وجود سے خوشبو میں معطر تھا اسی طرح مصر کی سر زمین بھی حضرت زینب (س) کی خوشبو سے معطر ہے اور رہے گی ۔
الھلالی نے اس تاکید کے ساتھ کہ آل پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور کمزور قوم نے بہت ساری مشکلات کو برداشت کیا ہے بیان کیا : ایک مدت تک ہم لوگ ظالموں و جابروں جیسے امریکا کی پیروی کرتے تھے یہاں تک کہ خدا نے ہم لوگوں کے قوم پر اپنی برکت نازل کی ۔
انہوں نے وضاحت کی : خداوند عالم نے اسلامی انقلاب ایران کو تمام قوم کے لئے ایک بہتریں ھدیہ کے عنوان سے نازل کیا اور اس انقلاب کی وجہ سے قرآن و رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیغام لوگوں و قوموں کے درمیان گوش گزار ہوا ۔
آسٹریلیہ کے سابق مفتی نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : اسلامی انقلاب کی تابش سبب بنی تاکہ اسلامی سرزمین، اسلام و ولایت فقیہ کے ہمراہ، ولایت فقیہ سے ناواقف، جاہلوں اور کم ظرفوں سے مقابلہ کرسکے ۔
انہوں نے تاکید کی : اے لوگوں نادان علماء ، جاہلوں اور کم ظرفوں کی پیروی کے بجائے اپنے علماء اور اپنے فقہاء کی پیروی کرو کہ یہ کامیابی امام خمینی(رہ) کے برکت سے حاصل ہوئی ہے ۔
الازہر کے استاد نے « نہ مشرقی نہ مغربی » نعرہ کو ایرانی قوم کے قیام کا بنیادی محور جانا ہے اور بیان کیا : ایران کا اسلامی انقلاب قرآن و نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام سے وجود میں آیا ہے ۔