01 October 2016 - 10:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423567
فونت
حیرت تو یہ ہے کہ اس وقت جب دونوں جانب جنگ کے بگل بج رہے ہیں، وہ عالمی امن کے ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ کیا انہیں سنائی نہیں دیتا کہ مسلسل ایک نیوکلیائی ملک دوسرے نیوکلیائی ملک کو جنگ کے لئے للکار رہا ہے۔ ہمیشہ جنگوں کے آغاز کے بعد میں اس میں کودنے والے اور روایتی مذمتی بیانات جاری کرکے عالمی امن کے میڈل سینے پر سجانے والوں کی اس وقت کوئی آواز نہیں سنائی دیتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خطے میں جنگ ہی ان عالمی ٹھیکیداروں کے فائدے میں ہے۔ ایف سکس ٹین، ٹینک، توپیں، آلات حرب بیچنے کا اس سے اچھا کیا موقع ہوسکتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ خطے میں جنگ چھڑ جائے تو یہاں متوقع اقتصادی منصوبے بھی کچھ عرصے کے لئے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔
جنگ



 تحریر: سید اسد عباس

جنگ یقیناً ہولناک ہوتی ہے، بستیوں کی بستیاں ویران ہو جاتی ہیں، ہزاروں انسان لقمہ اجل بنتے ہیں، معاشی، اقتصادی نقصان الگ۔ اگر یہ جنگ دو نیوکلیائی ریاستوں کے مابین ہو تو معاملہ اور گھمبیر اور خطرناک ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سے غلطی، ایک غلط فیصلہ خطے کو بھسم کرنے کے لئے کافی ہے۔ جنگ کی مخالفت میں یقیناً بہت سی باتیں کی جاسکتی ہیں، بلکہ پورا کالم ہی جنگ کے خلاف لکھا جا سکتا ہے، تاہم جب ایک ملک اپنی طاقت کے زعم میں یا انجانی وجوہات کے سبب دوسرے ملک کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرے، اس کے سرحدی محافظوں پر حملہ آور ہو اور اپنے اس اقدام کو سرجیکل سٹرائیک قرار دیتے ہوئے دوسرے سے یہ توقع رکھے کہ وہ اس طرح کے حملوں کو برداشت کر لے گا تو اسے اس طاقتور فریق کی بھول ہی کہا جا سکتا ہے۔ گذشتہ کئی روز سے برصغیر کے دو اہم ممالک کے مابین جنگ کے بگل بج رہے ہیں۔ موجودہ گرما گرمی کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولا کے اڑی سیکٹر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے سے ہوا۔ اس حملے میں بھارتی افواج کے سترہ فوجی ہلاک ہوئے۔ بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹینیٹ جنرل رنبیر سنگھ نے واقعہ کو دراندازی سے جوڑا اور کہا کہ مارے جانے والے چاروں حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے تھا۔ پاکستانی افواج کے ڈی جی ایم او نے بے بنیاد اور قبل از وقت الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے انڈین ہم منصب کو کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ایسے شواہد ہیں، جن کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہو تو فراہم کئے جائیں۔

قارئین کرام! یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی افواج نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل او سی پر خار دار تار اور اسرائیل کی مدد سے ایسے آلات نصب کئے ہیں، جن کی موجودگی میں ایل او سی کے آر پار انسانی نقل و حمل کا امکان بہت کم ہوچکا ہے۔ اس بات کا اظہار کئی ایک سابق مجاہدین نے بھی کیا کہ اب سرحد پار کرنا قریباً ناممکن ہے۔ علاوہ ازیں مشرف دور میں کشمیر پالیسی میں آنے والی تبدیلی کے سبب مجاہدین کی آمد و رفت کا سلسلہ تقریباً تھم چکا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کی جانب سے الزام اور اس الزام کی بنیاد پر حملے کی تیاریاں اور دھمکیاں حیران کن ہیں۔ جمعرات کے روز ہندوستان نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کر دیا، جبکہ اس فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیک کا عنوان دیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی بری فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے بتایا کہ "سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ہے۔" آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ "مبینہ دہشتگردوں کے اڈوں پر سرجیکل حملوں کا تصور انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا، جو کہ ایک ایسا فریبِ نظر ہے جس کا مقصد غلط تاثر دینا ہے۔" فوج کے بیان کے مطابق ایل او سی کے کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر فائرنگ بدھ کی شب رات اڑھائی بجے شروع ہوئی اور صبح آٹھ بجے تک جاری رہی اور اس سے پاکستان کے دو فوجی شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افواج نے بھی "انڈین جارحیت" کا بھرپور جواب دیا اور اگر پاکستانی سرزمین پر سرجیکل حملے کئے گئے تو ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے لائین آف کنٹرول پر صورتحال کے پیش نظر وفاقی کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالہ کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ طلب کرکے "لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ" اور اس کے نتیجے میں دو فوجیوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق پاکستانی حکام نے اس واقعے سے متعلق ایک مراسلہ بھی بھارتی ہائی کمشنر کے حوالے کیا ہے۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک کی جنگی تاریخ اور گہرے مسائل جن میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے، کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے ذرا سی کوتاہی پورے خطے کو جنگ کے الاو میں دھکیل سکتی ہے۔ یہ جنگ یقیناً کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہوگی۔ پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ ’’داند بھجیاں واہنڑ ہکو جئے ہوندین‘‘ یعنی جب بیلوں کی ریس ہوتی ہے تو ایک جیسے کھیت میں ہی بیل بھاگتے ہیں، یعنی نقصان بہرحال دونوں اطراف کا ہوگا، مگر یہ دانشمندی دونوں اطراف کو دکھانی ہوگا۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ فقط پاکستان سے ہی توقع رکھی جائے کہ وہ خاموشی سے ایل او سی پر ہونے والی خلاف ورزیوں کو برداشت کرتا رہے۔ ہندوستان ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کا معاملہ اٹھا کر جنگ کا بازار گرم کرتا ہے۔ حالانکہ بھارت کو اچھی طرح سے علم ہے کہ لائن آف کنٹرول پر لگائے گئے اعلٰی ترین آلات کی موجودگی میں اب اس لائن کو عبور کرنا عملاً ممکن نہیں رہا۔

مجاہدین کی سابقہ آمدو رفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فی الفور بغیر کسی تحقیق کے اڑی ہیڈ کوارٹر حملے کو جیش محمد اور پاکستان کے سر تھوپنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ پھر یہ کہ جب فریق ثانی آپ سے اس الزام کے ثبوت مانگ رہا ہے تو بجائے ثبوت مہیا کرنے کے خود سے ایک خود مختار اور آزاد ملک کے خلاف کارروائی کرنا بگل جنگ نہیں تو اور کیا ہے۔ ہندوستان کے سیاسی اور فوجی قائدین کو دونوں ممالک کی جنگی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ سفارتی سطح پر ہندوستانی اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کیا جائے اور اسے ایک دہشت گرد ریاست قرار دلوایا جائے، جبکہ جنگی میدان میں جمعرات کی کارروائی بھارتی عزائم کو بیان کرتی ہے۔ ہندوستانی وزیر داخلہ ٹویٹ کرتا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے اور اس کو تنہا ہونا چاہیے، اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کا سیکرٹری جنرل کہتا ہے ایک دانت کے بدلے پورا جبڑا۔ کوئی بھی سمجھدار انسان دو نیوکلیائی ریاستوں میں سے ایک کے راہنماؤں کی جانب سے اس قسم کے اشتعال انگیز بیانات کو دانشمندی نہیں کہ سکتا۔ ہندوستانی میڈیا کی بھی یہی صورتحال ہے۔ ایسا لگتا ہے ہندوستانی اینکر اور صحافی اس ’’مہا یدھ‘‘ کے جرنیل ہیں اور بھارتی افواج کی کامیابی کو یقینی دیکھ رہے ہیں۔ بعض بیانات تو ایسے ہیں، جنہیں بیان کرتے ہوئے مجھے شرم بھی آتی ہے اور بے پناہ غصہ بھی، تاہم یہ بیانات ہندوستان کی درجہ اول کی قیادت داغ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان میں سمجھ دانی نام کی کوئی چیز نہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جنگ کا ڈھول پیٹنے والے ان ہندوستانی سورماوں میں سے کوئی بھی جنگ کے آغاز کے وقت ملک میں نہیں رہے گا۔ مرنے کے لئے وہی غریب جنتا ہوگی۔ جرنیل بھی اپنے بنکروں سے احکامات صادر کر رہے ہوں گے اور مرنے والے ہندوستان کے عام سپاہی ہوں گے۔

حیرت تو یہ ہے کہ اس وقت جب دونوں جانب جنگ کے بگل بج رہے ہیں، وہ عالمی امن کے ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ کیا انہیں سنائی نہیں دیتا کہ مسلسل ایک نیوکلیائی ملک دوسرے نیوکلیائی ملک کو جنگ کے لئے للکار رہا ہے۔ ہمیشہ جنگوں کے آغاز کے بعد میں اس میں کودنے والے اور روایتی مذمتی بیانات جاری کرکے عالمی امن کے میڈل سینے پر سجانے والوں کی اس وقت کوئی آواز نہیں سنائی دیتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خطے میں جنگ ہی ان عالمی ٹھیکیداروں کے فائدے میں ہے۔ ایف سکس ٹین، ٹینک، توپیں، آلات حرب بیچنے کا اس سے اچھا کیا موقع ہوسکتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ خطے میں جنگ چھڑ جائے تو یہاں متوقع اقتصادی منصوبے بھی کچھ عرصے کے لئے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔ خطے کی دیگر طاقتیں جو اب ان دو اہم ممالک کے قریب تر ہو رہی ہیں، کو بھی ایک نئی مصیبت سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔ معاملہ شاید اڑی ہیڈ کوارٹر یا مقبوضہ کشمیر کی حد تک کا نہیں ہے۔ میرے خیال میں عالمی مداری خطے میں کوئی کھیل بن رہا ہے۔ جس کو خطے میں موجود ممالک کو نہایت سمجھداری سے ادھیڑنا ہوگا۔ چین، روس، ایران، پاکستان اور سابق سوویت یونین سے آزاد ہونے والے ممالک اگر ایک بلاک بن کر خطے کے امن و امان کے حوالے سے اقدامات کریں تو شاید ہندوستان کے منتریوں کو بھی ہوش آئے۔ روس اور ایران کے ہمراہ پاکستانی افواج کی مشترکہ مشقیں اس راہ پر پہلا قدم ہے۔ ہمیں نہایت سمجھداری اور چابکدستی سے اس طرح کے مزید قدم اٹھانے ہوں گے، تاکہ نہ صرف وطن عزیز بلکہ خطے کے امن کو بھی یقینی بنایا جاسکے، مستقبل میں متوقع اس خطے کی خوشحالی بہت سی آنکھوں میں چبھ رہی ہے، جس کی حفاظت اور تسلسل نہایت اہم ہے۔ خداوند کریم اس خطے کے باسیوں اور ان کے راہنماوں کو اپنے خطے کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬