15 October 2016 - 13:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423853
فونت
اشرف آصف جلالی:
سرزمین پاکستان کے سنی عالم دین نے مرکز صراط مستقیم تاج باغ لاہور میں مرکزی پیغام امام حسین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: سیدنا امام حسین(ع) خوشبوئے رسول(ص) اور غلبہ دین کا اصول ہیں ۔
اشرف آصف جلالی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین پاکستان کے سنی عالم دین اشرف آصف جلالی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: سیدنا امام حسین(ع) حد درجہ کے ذہین، قرآنی اسرارورموز کے ماہر، نابغہ روزگار، محدث، صف شکن مجاہد اور بصیرت و فراست کے شاہکار قائد تھے، آپ زہد و تقویٰ کی دستار اور ولایت و معرفت کا معیار تھے، آپ راہ عزیمت کے مسافر اور غیرت دین کے ترجمان تھے آپ نے یزیدی فتنے کا بروقت ادراک کیا اور اس سے نمٹنے میں سبقت کی۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی شعائر کے فروغ اور اسلامی حدود کے تحفظ کیلئے آپ نے کربلا کا راستہ اختیار کیا، آپ کا مقصد ہرگز اقتدار نہیں تھا بلکہ آپ دین مصطفیٰ  کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے، دین کو بحفاظت آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لحاظ سے آپ ملت کے بہت بڑے محسن ہیں کہا:  آسیہ سماعت کیس میں بنچ کا ٹوٹ جانا خوش آئند ہے، آج جبکہ پاکستان کی سرحدوں پر غیر یقینی صورتحال ہے، ایسے میں آسیہ ملعونہ کی رہائی کی خبروں سے ملک میں ایک انتشار کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اگر حکمرانوں نے کوئی ایسی غلطی کی تو اس کا ردعمل انتا سخت ہوگا جس کا حکمرانوں کو اندازہ نہیں، توہین رسالت سب سے بڑی دہشتگردی ہے، حکومت ایک دہشتگرد عورت کو چھڑانے کیلئے کیوں بے تاب ہے عاشقان رسول ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ نے کہا : آپ حد درجہ کے ذہین، قرآنی اسرارورموز کے ماہر، نابغہ روزگار، محدث، صف شکن مجاہد اور بصیرت و فراست کے شاہکار قائد تھے، آپ زہد و تقویٰ کی دستار اور ولایت و معرفت کا معیار تھے، آپ راہ عزیمت کے مسافر اور غیرت دین کے ترجمان تھے آپ نے یزیدی فتنے کا بروقت ادراک کیا اور اس سے نمٹنے میں سبقت کی۔

تحریک صراط مستقیم لاہور کے امیر مولانا محمد صدیق مصحفی نے کہا : حسینیت قیامت تک نیا رنگ دکھاتی رہے گی۔

مولانا محمد فیاض جلالی نے کہا : حق کے علمبرار ہمیشہ راہ کربلا کے مسافر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آسیہ ملعونہ کو فرار کیا گیا تو نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬