22 October 2016 - 16:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423985
فونت
قفول بحرین کے امام جمعہ نے خون و خونریزی اور جسم کو زخمی کئے جانے والی عزاداری پر شدید تنقید کی ۔
آیت الله سید عبد الله الغریفی

رسا نیوز ایجنسی کی اللؤلؤه سے رپورٹ کے مطابق، قفول بحرین کے امام جمعہ آیت الله سید عبد الله الغریفی نے اس ھفتہ مسجد امام صادق(ع) قفول میں منعقد ہونے والی نماز جمعہ کے خطبے میں کہا : عزاداری امام حسین علیہ السلام کے طریقے پر دقت کے ساتھ غور کریں کہ کیوں کہ عزاداری کے بعض طریقے شرعیت کے خلاف ہیں جن کی نقد لازمی و ضروری ہے ۔  

اس بحرینی عالم دین نے کہا: اس طریقے کی عزاداری شرعا حرام ہے مگر لوگ انتقاد کرنے سے گھبراتے ہیں تاکہ خود کو شعائر عاشوراء سے مقابلہ کے اتھام و الزام سے بچا سکیں ۔

آیت الله غریفی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس طرح کی عزاداری کی مقابل سکوت اس کی مشروعیت کا سبب ہوگا کہا: بعض افراد اس طرح کی عزاداری کے سلسلے میں اپنے مراجع سے صاف و شفاف فتوی چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا: بعض عزاداریوں کے سلسلے میں کوئی فتوی یا فقھی نظر موجود نہیں ہے کہ اگر اس طرح کی عزاداریوں کو لگام نہ دی گئی تو خود عزاداری کو خطرہ ہوسکتا ہے ، اس طرح کی عزاداری کو جائز قرار دینے والے بعض فتوے ابتدائی احکامات ہیں اور جبکہ اس کے سلسلے میں ثانوی احکامات بھی موجود ہیں ۔

قفول بحرین کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ اس طرح کی عزاداری کرنے والے افراد جسم کو ضرر اور نقصان پہونچانا فقط ہلاکت کی صورت میں فرض کرتے ہیں مگر اس طرح کی چوٹ اور زخم کو وہ ھرگز ضرر نہیں سمجھتے کہا: اگر اسے بھی مان لیا جائے تو اس مقام پر ایک دوسرا حکم موجود ہے جسے احکام ثانوی کہا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس طرح کی عزاداری دین و مذھب کی توھین ، تضعیف اور عزاداری کی بدنامی کا سبب ہے، دنیا کی میڈیا اس طرح عزاداری کی ویڈیو بناکر خود عزاداری کے خلاف استعمال کر رہی ہے ۔ /۹۸۸/ن۹۳۰/ک۳۵۲

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬