20 January 2017 - 19:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425807
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری:
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا : ملک کے نفع بخش اداروں کو نااہل لوگوں کے حوالے کرکے دانستہ طور پر خسارے کا شکار بنایا جا رہا ہے، تاکہ قومی اثاثوں کو کوڑیوں کے عوض اپنے ہی لوگوں میں فروخت کیا جا سکے۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں حکمران خاندان کے بدلتے ہوئے بیانات نے اصل حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔

انہوں نے بیان کیا : قوم کے سامنے جھوٹ بولنا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں۔ قومی سرمایہ لوٹنے والوں نے پوری دنیا کے سامنے پاکستان کے وقار کو مجروح کیا ہے۔

پانامہ کیس کے متعلق روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں اعلٰی عدلیہ کی طرف منصفانہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ثابت ہوگا۔ لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کو جب تک سخت محاسبے کا سامنا نہیں کرنے پڑے گا، تب تک ایسے عناصر کے حوصلے بلند ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کی طرف سے سخت اقدامات اور کڑی سزائیں وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ جو لوگ قومی خزانے کو ذاتی جاگیر سمجھ کر خرچنے میں مگن رہے ہیں، ان کا احتساب عوام کرے گی۔ ملک کے نفع بخش اداروں کو نااہل لوگوں کے حوالے کرکے دانستہ طور پر خسارے کا شکار بنایا جا رہا ہے، تاکہ قومی اثاثوں کو کوڑیوں کے عوض اپنے ہی لوگوں میں فروخت کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے حکومتی وزراء اور شخصیات کے متضاد بیان حکومتی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے والے اگر وطن عزیز کے استحکام کے لئے مخلصانہ کردار ادا کرتے تو آج ملک کے حالات قدرے مختلف ہوتے۔

انہوں نے کہا ملکی سرمایہ لوٹنے والوں کی پاکستانی سیاست میں قطعاَ گنجائش نہیں ہونی چاہئیے۔ اگر وزیراعظم نواز شریف پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے تو پھر انہیں اور دیگر تمام معاونین کو پارلیمنٹ کے لئے تاحیات نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬