28 January 2017 - 10:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425960
فونت
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان پر عالم اسلام میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں اردن میں مظاہرہ ہوا ہے۔
اردن میں مظاھرہ


رسا نیوز ایجنسی کی الجزیرہ سے رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان پر عالم اسلام میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں اردن میں مظاہرہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اردن کے دارالحکومت امان میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سیکڑوں شہریوں نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرامریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کی کوششوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

اس موقع پر مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اگر امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کیا گیا تو تاریخ کا سنگین جرم تصور کیا جائے گا اور اس جرم کے مرتکب لوگوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

مقررین نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا حصہ ہے جسے تمام عالمی ادارے بھی متنازع قرار دے چکے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی عالمی قوانین کی توہین اور بین الاقوامی اداروں کے اصولوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔/۹۸۸/ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬