‫‫کیٹیگری‬ :
24 March 2017 - 17:06
News ID: 427066
فونت
آیت‌ الله کاظم صدیقی:
ایران کے دار الحکومت تہران کے امام جمعہ نے اس ھفتے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا: رهبر معظم انقلاب اسلامی کے نظریات ذاتی نظریات نہیں ہیں بلکہ دین اور مرجعیت کی نظر ہے ۔
حجت الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دار الحکومت تہران کے امام جمعہ آیت‌ الله کاظم صدیقی نے اس ھفتے نماز جمعہ کے خطبے میں جو سیکڑوں نماز گزاروں کی شرکت میں مصلائے تہران میں منعقد ہوا، سن ۱۳۹۶ ھجری شمسی کے آغاز پر اور نوروز کی مناسبت سے حرم مطهر حضرت امام رضا علیہ السلام میں ہونے والی رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ کی تقریر کو نہایت اہم اور سرنوشت ساز جانا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حکیم ، دیده بان ، مراقب ، مرزبان ، تقوائے الھی کی بنیادوں پر استوار باطنی بصریت کے مالک رهبر معظم انقلاب اسلامی نے دلسوز ماھرین کی مشورتوں کی بنیاد پر اس سال کا نام اور نارہ استقامتی اقتصاد ، پیداوار اور ملازمیتیں رکھا ہے کہا: رهبر معظم انقلاب اسلامی کے نظریات ذاتی نظریات نہیں ہیں بلکہ دین اور مرجعیت کی نظر ہے ۔

اقتصاد اس سال کا پہلا نارہ ہے  

تہران کے امام جمعہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ: رهبر معظم انقلاب اسلامی کئی برسوں سے شیطانوں کے حملے پر بغور نگاہ جمائے ہوئے ہیں ، وہ میزائل جسے دنیا نے ہمارے لئے تیار کیا وہ فوجی میزائلوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں ، اس پر آپ کی نگاہیں ہے کہا: دشمنوں نے ہم پر آٹھ سال تک جنگ جیسی بلاء تھونپی ، مغرب اور مشرق سبھی ہمارے خلاف کھڑے ہوگئے مگر پھر بھی انہوں نے دیکھا کہ ہم دن بہ دن مضبوط ہوتے چلے گئے لھذا اب انہوں نے ہمارے اقتصاد اور ہماری ثقافت کو نشانہ بنایا ہے ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: رهبر معظم انقلاب اسلامی ایسے دیدہ بان کے مانند ہیں جنہوں نے ادھر کئی سالوں سے اقتصاد کو اپنی ترجیحات میں سے قرار دیا ہے اور امسال یعنی سن ۱۳۹۶ ھجری شمسی کو مملکت کے ذمہ داروں اور قوم کے لئے اقتصادی راہ و روش معین کی تاکہ امسال استقامتی اقتصاد ، پیداوار اور ملازتیں حکمرانوں اور قوم کے لئے سرلوحہ عمل قرار پائے ۔

آیت ‌الله صدیقی نے انقلابی اقدروں کے میدان میں عوامی حمایت اور کامیابیوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: جن دنوں کروڑوں لوگوں کو میدان میں حاضر رہنا چاہئے تھا وہ میدان میں اترے اور اپنی موجودگی کے ذریعہ امریکا کی فضولیات کا کہ قوم انقلاب اور نظام اسلامی سے تھک چکی ہے منھ توڑ جواب دیا ۔

تہران کے امام جمعہ نے مزید کہا: خدا کا شکر ہے کہ دینی پروگرام کہ جو لوگوں کے ایمان اور مذھبی دنیا سے وابستگی کی نشانی ہے دن بہ دن اس کے انعقاد کی کیفیت میں بہتری آتی جارہی ہے ۔

نظام اسلامی کو ناکارہ ثابت کرنے کے حوالے سے دشمن کی سیاست  

انہوں نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ آیا انقلاب اسلامی کے بعد ہمارے معاشرہ میں انجماد رہا ہے اور کیا نظام اسلامی نے کوئی خدمت انجام نہیں دی ہے کہا: دشمن یہ بتانا چاہتا ہے کہ ایران کی مشکلات ناقابل حل ہے ، کہ اگر پابندیاں اور دھمکیاں مزید بڑھتی گئی تو ایرانی سخت مشکلات سے روبرو ہوں گے یہاں تک کہ ان کا زندگی کرنا دشوار ہوجائے گا ، اس کا مطلب یہ کہ انقلاب اسلامی ناکارہ رہا ہے ۔

آیت ‌الله صدیقی نے کہا: مملکت کے ذامہ داروں نے جب بھی قدم اٹھایا حضرت آقا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور قدر دانی کی ، مگر یہ اقدامات ملموس ہونے چاہئیں کہ لوگ دیکھیں کہ کون سا خلاء پر ہوا اور کون سی گرہ کھلی ۔

انہوں نے ہائی وے اور ڈیم کی تعمیر ، لائٹ اور انرجی کی پیداوار ، یونیورسٹیز اور طلبا کی تعداد میں اضافہ ، لوہے اور فولاد کی مصنوعات میں ۱۵ پرنسٹ بڑھاو اور بندرگاہوں کی ظرفیت میں ۲۰ پرنسٹ افزایش کا تذکرہ کیا اور کہا: قوم بخوبی اس بات کا احساس کرتی ہے کہ انقلاب اور نظام اسلامی دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔

تہران کے امام جمعہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حضرت آقا کو جوانوں کی بیکاری ، مہنگائی ، انجماد اور سماجی انحرافات کا بہت دکھ ہے ، یہ وہ تمام باتیں ہیں جس کے سلسلے میں ہمیں چارہ اندیشی کرنا چاہئے کہا: یہ مشکلات نظام اسلامی سے متعلق نہیں ہیں بلکہ مینجمینٹ کی کمی کی بنیاد پر ہے کہ جو آج تک ہمارے معاشرے میں پا برجا ہے ۔

ذ٘مہ داریاں انقلابی ، کار آمد اور بہادر مدیروں کے حوالے کی جائے

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ان مشکلات کا حل انقلابی ، کار آمد اور بہادر مدیروں کے حوالے ذ٘مہ داریاں سونپنے میں پنہاں ہے کہا: ضروری ہے کہ انقلابی ، کار آمد اور بہادر مدیروں کو قومی خدمات کی ذمہ داریاں دی جائیں ، کیوں تجربات اس بات کے بیان گر ہیں کہ اب تک جہاں بھی دیں دار ، انقلابی ، فعال ، محنتی اور بہادر ذمہ داران رہے ہیں اس جگہ ترقی ہوئی ہے ، لہذا ہمیں ان میعاروں سے بخوبی استفادہ کرنا چاہئے ۔

تہران کے امام جمعہ نے مزید کہا: ہم ۵۰ لاکھ طلباء اور ۱ کروڑ یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل بے کار اور بے ملازمت طلباء سے روبرو ہیں ۔

آیت ‌الله صدیقی نے اقتصاد کے لئے پروگرامینگ اور اس کا عوامی ہونا ضروری جانا اور کہا: قومی پروڈیکٹ کی خریداری میں کہ جو چینی پروڈیکٹ سے کہیں بہتر ہیں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے نیز انشورنس، کسٹم ، ٹیکس اور بینکوں کے نظام میں اصلاح کی جائے تاکہ ملکی صنعت کار بیرونی صنعتکاروں سے بخوبی مقابلہ کرسکیں ۔

انقلاب قوم کی ملکیت ہے اور یہ ملکیت باقی رہے گی

انہوں سن ۱۳۹۶ ھجری شمسی مطابق ۲۰۱۷ میں ہونے والے صدر جمھوریہ الیکشن کی اھمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس الیکشن کو نہایت اہم اور حساس بتایا اور کہا : ہمارا نظام حکومت ، دینی جھوریت ہے ، ہمارے ملک میں دین کے پیرائے میں قوانین وضع کئے گئے ہیں اور عوام اپنے حکمرانوں کو معین کرتی ہے ۔

انہوں نے الیکشن میں عوامی مطالبات پر توجہ دینے کی تاکید کی اور کہا: انقلاب قوم کی ملکیت ہے اور یہ ملکیت باقی رہے گی ، اگر چہ ہماری قوم مظلوم ہے اور بہت سارے لوگ ان کے مطالبات پر توجہ نہیں کرتے ۔

آیت‌ الله صدیقی نے واضح طور سے کہا: لوگوں کا مطالبہ یہ ہے دین و عزت ، حجاب ، نماز جماعت ، آبرومند معیشت ، عالمی عزت و استقلال ، موثر ڈپلومیسی غیر متاثر اور بہادر حکمراں کو ہر جگہ دیکھیں ۔

انہوں نے قرآن بھی دل کی بہار ہے قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا : قرآن مجید دلوں کو زندہ کرنے اور انسان کو اللہ تعالی سے قریب تر کرنے کا بہترین وسیلہ ہے ۔

تہران کے امام جمعہ نے نوروز کی بہار کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اللہ تعالی نے ایک بار پھر بہار کے ذریعہ مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کردیا ہے اسی طرح وہ ایک دن مردہ انسانوں کو زندہ کرے گا ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دیکھنا چاہئے کہ انسان کا دل کس چیز سے زندہ ہوتا ہے کہا: امام زمانہ (عج) کی آمد دل کی بہار ہے فکر کرنے سے بھی دل زندہ ہوتا ہے اور موعظہ حسنہ سننے سے بھی دل زندہ ہوتا ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۱۲۴۴

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬