19 June 2017 - 19:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428620
فونت
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی سامراجی قوتوں نے مسلمان حکمرانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کے نتیجہ میں اسرائیل کے ناپاک عزائم بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جعلی ریاست کے ناپاک عزائم کا راستہ روکنے کے لئے مسلم دنیا کو چاہئیے کہ عالمی دہشت گرد امریکا کا سہارا لینے کی بجائے آپس میں اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرے۔
فلسطین کانفرنس

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے تحت منعقدہ القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور سرکاری سطح پر یوم فلسطین بھی منانا چاہیئے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اب معاملہ اس سے آگے چلا گیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہ آخر پاکستان ہر پرائی جنگ میں کیوں گھستا ہے، پہلے افغان جنگ لڑے اور حصہ بنے اور اب ہم اسلامی اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے لئے مسلم دنیا کو دہشت گردی سمیت معاشی مسائل میں الجھا رہی ہیں تاکہ اسرائیل کو تحفظ فراہم ہو سکے، انکا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین صرف عرب دنیا کا ہی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ اور انسانیت کا اولین مسئلہ ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے سمیت عالمی امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اسلام آباد میں منعقدہ القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ خٹک، مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر، فلسطین فاونڈیشن کے ترجمان صابر کربلائی، سنی اتحاد کونسل کے رہنما جواد کاظمی، تاجر رہنما اجمل بلوچ اور کاشف اقبال سمیت دیگر نے کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کاز کے ساتھ ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دیں گے ۔

انہوں نے اپیل کی کہ پاکستان کے عوام رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس منائیں اور حکومت یوم القدس کی تقریبات کو سرکاری سطح پو مناتے ہوئے یوم القدس کو سرکاری دن منانے کا اعلان کرے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬