
آیت الله عباس کعبی جو ایران کے صوبہ خوزستان میں خبرگان رہبری کونسل کے ممبر ہیں رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفت و گو میں حالیہ افغانستان کے میرزا اولنگ میں شیعوں کے قتل عام اور دہشت گردانہ اقدام کی شدت سے مذمت کرتے ہوئے کہا : غیر انسانی و تباہ کن قتل اور میرزا اولنگ علاقے میں ہوئے خون خرابہ کا سخت مذمت کرتا ہوں اور دہشت گردوں کی طرف سے یہ سفاکانہ اقدام قابل افسوس ہے ۔
انہوں نے وضاحت کی : ہر آزاد انسان اور بیدار ضمیر والا شخص اس حادثہ و مسائل سے سخت مغموم ہے ؛ اس وجہ سے تمام عالمی تنظیمیں اور آزادی چاہنے والے قوم اس اقدامات کی سخت مذمت کریں تا کہ دوبارہ ایسا جرائم پیش آنے سے روکا جا سکے ، افسوس کی بات ہے کہ اس موضوع پر بے توجہی ہو رہی ہے اور عالمی تنظیم کی طرف سے غم بار خاموشی کی جا رہی ہے ۔
حوزہ علمیہ جامعہ مدرسین قم کے ممبر نے اس بیان کے ساتھ کہ مجرم کسی بھی گروہ کے ہوں ، اس تباہی سے شیعوں کی جان کی حفاظت میں افغانستان کی حکومت کی ذمہ داری کم نہیں ہوگی بیان کیا : سب سے پہلے افغانستان کی مرکزی حکومت کے حکام اور اس علاقہ کے محلی حکام کو چاہیئے کہ مظلوم لوگوں کی سیکورٹی کا زمینہ فراہم کریں اور اس غیر انسانی و ضد بشری جرائم کو انجام دینے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اور ان لوگوں کی گرفتاری کے ذریعہ یرغمال ہوئے لوگوں کی رہائی کا سبب بنیں ۔
انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : افغانستان کے حکام کو چاہیئے کہ غم میں مبتلی لوگوں کی تسکین اور لوگوں کو حاصل ہوئے اس نقصان کی بھرپائی کے لئے مناسب اقدام کریں ، اسی طرح جتنا جلد ہو سکے حقیقت یاب کمیٹی افغانستان کی حکومت کی طرف سے بنائی جائے تا کہ مجرمیں کے لئے سختی ہو سکے ۔
آیت الله کعبی نے اس بیان کے ساتھ کہ افسوس کی بات ہے کہ اس مسئلہ میں بے توجہی دیکھی جا رہی ہے بیان کیا : بعض لوگوں کی طرف سے تنازعہ و اختلاف اور دوسری طرف مظلوم عوام کی سلامتی کے مسئلہ کو کنارہ کرنا سبب ہوا تا کہ یہ غیر انسانی و ضد بشری جرائم داعشی و تکفیری تفکر کی طرف سے انجام پائے ۔ /۹۸۹/ف۹۳۰/ک۴۵۵/