‫‫کیٹیگری‬ :
25 October 2017 - 11:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430521
فونت
آیت الله حسین مظاهری:
حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ اور معلم اخلاق نے اپنی تفسیری نشست میں کہا: توبہ اسلام کے اہم واجبات میں سے ہے اور ہمیں پورے دن توبہ کرتے رہنا چاہئے ۔
آیت الله مظاهری

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفھان سے رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ اور معلم اخلاق حضرت آیت الله حسین مظاهری نے مسجد امیرالمؤمنین(ع) جی روڈ پر ہونے والی تفسیر قران کریم کی نشست میں شریک افراد کو پورے دن توبہ کرنے کی تاکید کی ۔

انہوں نے سوره بقره کی ۱۶۰ ویں آیت کریمہ «إِلّا الَّذِینَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَیَّنُوا فَأُولَئِکَ أَتُوبُ عَلَیْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ۔ ترجمہ : البتہ جو لوگ تو بہ کرلیں اور ( اپنی) اصلاح کر لیں اور (جو چھپاتے تھے اسے) بیان کردیں تو میں ان کی توبہ قبول کرلوں گا اور میں تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہوں » کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: توبہ اسلام کے عظیم واجبات میں سے ہے ، اس کے ثواب کی حد فقط خداوند متعال ہی کو معلوم ہے ،  ہم نے جیسا کہ اس سے پہلے بھی بیان کیا کہ گناہ جس قدر بھی عظیم ہو خداوند متعال نے اسی کے بقدر اس کی توبہ بھی رکھی ہے ، وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور کبھی نگاہوں کو ثواب میں بدل دیتا ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ توبہ کے مراتب موجود ہیں کہا: توبہ کی کئی قسمیں ہیں ، عوامی توبہ ، خواص کا توبہ اور خاص الخواص کا توبہ ۔ توبہ کی پہلی قسم ہم پر واجب اور ضروری ہے ، توبہ دوسرے مرحلہ تک پہونچا ہمارے لئے نہایت دشوار اور سخت کام ہے اور تیسرے مرحلے تک پہونچنا محالات میں سے ہے کیوں کہ یہ مرتبہ ائمہ معصومین(ع) سے مخصوص ہے ۔

حوزہ علمیہ اصفھان کے سربراہ نے یاد دہانی کی: توبہ کی پہلی قسم یعنی وہ قسم جو عوام سے متعلق ہے ، زندگی کے ساتھ ساتھ انجام پاتی رہنا چاہئے کیوں کہ غفلت کی صورت میں ہم ناقابل تدارک نقصانات سے ربرو ہوں گے ۔

انہوں نے مزید کہا: توبہ کی دوسری قسم کہ جو خواص سے مخصوص ہے اس کا لازمہ اور نتیجہ زندگی کا تمام ضرورتوں سے ھماھنگ ہونا ہے ، جب مرسل آعظم (ص) کو بعض لوگوں کی جانب سے رھبانیت اختیار کئے جانے کی خبر ملی تو حضرت(ص) نے بلا فاصلہ لوگوں کو یکجا کیا اور منبر پر جاکر لوگوں سے گلہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے درمیان زندگی بسر کرتا ہوں ، لوگوں سے اور اپنی بیویوں سے تعلقات رکھتا ہوں ، تہمیں رھبانیت اختیار کرنے سے منع کرتا ہوں ۔  

حضرت آیت الله مظاهری نے بیان کیا : ملک کے ہر ذمہ دار، منصب دار اور حمکراں کے لئے ضروریات پر مشتمل زندگی بسر کرنا واجب و ضروری ہے مگر یاد رہے کہ جن لوگ کے اختیار میں ملک کی پوسٹیں ہیں وہ ضروریات پر اکتفاء کریں ، کیوں کہ مرسل آعظم(ص) اور حضرت امام علی علیہ السلام کی زندگی بھی ایسی ہی تھی ، حضرت علی(ع) نے اپنے ایک گورنر کو خط میں تحریر فرمایا کہ جب ہمیں خط لکھتے ہوتو باریک قلم سے استفادہ کرو ، یہ مختصر اور چھوٹا خط لکھنے کی جانب اشارہ ہے ، یعنی سطروں کے درمیان فاصلہ نہ ڈالو ، کیوں کہ اگر خط میں میری تعریف میں لکھو گے اور خطوں کے درمیان فاصلہ قرار دوگے تو مسلمانوں کا بیت المال ضائع کرو گے ۔

انہوں نے مزید کہا: امیرمؤمنین علی (ع) نے عثمان ابن حنین کو جنہوں نے ایک مالدار انسان کی دعوت میں شرکت کی تھی خط لکھا کہ میں پورے سال دو جوڑے لباس پر اکتفا کرتا ہوں ، تم میرے جیسے تو نہیں بن سکتے مگر تقوا الھی اختیار کرتے ہوئے میرے مددگار بنو ، منقول ہے کہ جب حضرت سلمان فارسی مدائن کے گورنر تھے اور آپ کی جاں کنی کا وقت آپہونچا تو روی کہتا ہے کہ میں ان سے ملاقات کے لئے گیا اور ان سے احوال پرسی کی تو انہیں روتا دیکھ کر متعجب ہوا ، اور کہا کہ آپ تو منّا اهل البیت کی منزل میں ہیں ، تو کیوں اتنا بے قرار ہیں ، جناب سلمان فارسی نے جواب دیا کہ جس کے پاس ضروریات زندگی زیادہ ہوتے ہیں وہ آخرت میں پھنسا ہوتا ہے ، روای کہتا ہے کہ جب میں ان کے گھر کا معاینہ کیا تو دیکھا کہ ضروریات زندگی کی بہت مختصر چیزیں ان کے پاس ہیں ۔

اس معلم اخلاق نے بیان کیا: توبہ کی تیسری قسم اهل بیت(ع) سے مخصوص ہے ، اهل بیت(ع) دوسروں سے معاشرت کے سبب کبھی کبھی ایک لمحے کے لئے خدا سے غافل ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں بنیادوں پر اس کی توبہ کرتے ہیں ، دعائے کمیل، دعائے عرفہ اور دعائے ابوحمزه ثمالی وغیرہ اسی کا کھلا مصداق ہیں ۔

انہوں نے یاد دہانی کی: مرحوم سبزواری کا کلام سبھی کے قابل قبول ہے ، توبہ کی پہلی قسم اوجب واجبات میں سے ہے کہ جس پر ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور سنجیدگی اختیار کرنا چاہئے ، توبہ کے پہلے مرحلہ تک پہونچنا عوام کے لئے ممکن اور لازمی ہے ، توبہ کی دوسری اور تیسری قسم تک عام انسانوں کے لئے پہونچنا ممکن نہیں ہے مگر دوسرا مرحلہ ملک کے ذمہ داروں اور حکمرانوں کے ضروری ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے آخر میں ایک واقعہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ایک انسان نے ۶۰ سال تک زندگی بسر کی اور ایک دن اس نے خود سے کہا کہ اگر ہر دن میں نے ایک گناہ کیا ہوگا تو ہمارے گناہ ناقابل شمارش ہیں ، وہ اس دن توبہ کی اہمیت اور اس مطلب کی گہرائی کو سمجھا اور غش کھا گیا پھر ہوش میں آیا اور خود سے کہا کہ میں کس طرح اس سنگین وزن کے ساتھ محشر میں جا سکتا ہوں ، میں آپ سبھی کو نصیحت کرتا ہوں کہ گناہوں کو یکجا نہ ہونے دیجئے اور توبہ کرتے رہئے ۔/۹۸۸/ ن ۹۷۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬