30 November 2017 - 13:55
News ID: 432041
فونت
علی حسین نقوی :
مجلس وحدت مسلمین پاکستان پولیٹیکل سیکریٹری نے کہا : نااہل حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور اور اپنے درباریوں کو طاقت ور کیا ۔
مجلس وحدت مسلمین

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے پولیٹیکل سیکریٹری علی حسین نقوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد آئی ایٹ مرکز امام بارگاہ باب العلم پر دہشتگردی کے نتیجے میں شیعہ مسلم حساس ادارے کے ملازم کی شہادت اور دیگر 4 شیعہ مسلم نمازیوں کے زخمی ہوجانے والے واقع نے وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی کی صورتحال کی قلعی کھول دی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی ہے کہ اس دہشتگردی کی واردات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وفاقی حکومت اور انکے وزیر داخلہ کی ترجیحات عوام کی جان و مال کی حفاظت نہیں بلکہ ایک عدالتی مستند نااہل سابق وزیر اعظم اور طبقہ اشرافیہ کی خوشنودی کا حصول ہے، وفاقی دارالحکومت میں عام لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے دہشتگردوں کا اطمینان سے فرار ہو جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی صلاحیتوں سے یا تو محروم ہوچکے ہیں یا انکی صلاحیتیں کسی مخصوص ایجنڈا کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سلب کی جاچکی ہیں،وفاقی دارالحکومت میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے تو اس سے ملک کے دیگر حصوں کے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نااہل حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور اور اپنے درباریوں کو طاقت ور کیا جسکے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑرہے ہیں،حکمرانوں کی نااہلی کے باعث پورا نظام ٹوٹی بیساکھی کے سہارے چل رہا ہے۔

یہاں رانا ثناء الله جیسے قاتل چور اور ملک کے خائن تو محفوظ رہتے ہیں مگر ناصر عباس شیرازی جیسے دیگر محب وطن فرزند یا تو اغوا کر کے لاپتہ کردیئے جاتے ہیں یا دہشتگردوں کو انہیں شہید کرنے کے لیئے سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے، مذہبی انتہا پسندی جنونیت اور فرقہ وارانہ عصبیت کو فروغ دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں, مدرسوں، مساجد، پارلیمنٹ، میڈیا اور دیگر اداروں سمیت معاشرے میں شدت پسند سوچ کی آبیاری کی گئ جس کے نتیجے میں کہیں مولانا فضل الرحمان، کہیں ملا فضل الله، کہیں اوریا مقبول، کہیں سلیم صافی، کہیں نورین لغاری تو کہیں رانا ثناء الله پنپے،ضیاء الحق سے لیکر آج تک اس شدت پسند فصل کی آبیاری  اور انکی اپنے قیمتی اثاثوں کی مانند حفاظت کی گئی۔

انہوں نے بیان کیا کہ جب ببول کے بیج بوئے گئے تو یہ امید کرنا کہ گندم نکلے گی سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں،اب بھی وقت ہے مقتدرہ پاکستان بھرپور آپریشن کے ذریعے اس پوری فصل کو تلف کرنے میں سنجیدگی دکھائے وگرنہ شاخیں کاٹنے سے سوائے توانائیاں اور وسائل کے ضیاع کے کچھ حاصل نہیں ہونا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬