‫‫کیٹیگری‬ :
18 February 2018 - 10:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435070
فونت
آیت الله سید محمد سعید حکیم :
نجف اشرف کے ایک مرجع تقلید نے بیان کیا ہے کہ عراق کے جوانوں نے صحیح اسلامی عقیدہ سے متمسک ہو کر داعش کو اس ملک سے راہ فرار پر مجبور اور اس کو سخت شکست دی ہے ۔
آیت الله سید محمد سعید حکیم

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق ملک کے جنوب منطقہ کے شہر ناصریہ کے یونیورسیٹی کے طالب علموں نے نجف اشرف کے مرجع تقلید حضرت آیت الله سید محمد سعید حکیم سے نجف اشرف میں ملاقات کی ۔

حضرت آیت الله حکیم نے اس ملاقات میں دینی عقیدہ کی حفاظت کی تاکید کی اور کہا : جوانوں کو اپنے عقیدہ پر اس طرح توجہ رکھنی چاہیئے کہ اس میں روز بہ روز مضبوطی پائی جائے کیوں کہ شیعوں کا عقیدہ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی سیرت سے اخذ کی گئی ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : جوانوں کو فورا ختم ہونے والی دنیا کے ظاہر کو دیکھ کر فریب نہیں کھانا چاہیئے کہ جو ہمیشہ ان کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش میں ہے ۔

مرجع تقلید نے تاکید کی ہے کہ صحیح اسلامی عقیدہ سے تمسک داعش دہشت گرد گروہ سے مقابلہ کرنے میں جوانوں کے استقامت کا سبب ہوا ہے ، عراق اور ان کے مقدسات سے دفاع اور دینی مناسبت سے منعقدہ تقریبات میں دہشت گردوں کی دھمکی کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ شرکت بھی اسلامی عیقیدہ سے تمسک کی وجہ سے ہوا ہے ۔

حضرت آیت الله حکیم نے حضرت فاطمہ زهرا (س) کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : ہم لوگ اس وقت حضرت زهرا (س) کی مظلومانہ شہادت کے ایام میں ہیں ؛ حضرت فاطمہ زهرا (س) ، امیرالمومنین علی (ع)، امام حسن (ع) و سید الشهدا امام حسین (ع) کی سیرت ایسی تھی کہ حق و حقیقت کے راہ میں ثابت قدم تھے اور ذاتی مصلحت و مفاد پر توجہ کرتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول کے راہ میں قدم نہیں بڑھاتے تھے ۔

انہوں نے وضاحت کی : طالب علموں کو بھی چاہیئے اہل بیت علیہم السلام اور اپنے بزرگوں کی سیرت سے تمسک حاصل کریں کیوں کہ ان لوگوں نے اقدار کے راہ اور اپنے عقیدتی اصول میں جان فشانی اور اس سے واپس نہ ہونے کی سیرت پر عمل کر کے دینا والوں کے لئے تعجب کا سبب ہوئے ہیں ۔

حضرت آیت الله حکیم نے جوانوں کو دین کی طرف میٹھے و نرم زبان اور اچھے رفتار سے دعوت کی اپیل کی ہے اور اظہار کیا : ہم لوگوں کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے کہ ہمارے جوان مغربیوں کی طرف سے بچھائے گئے جال میں گرفتار نہ ہوں ۔

انہوں نے خداوند عالم سے طالب علموں کے اعمال و زیارتوں کے قبول ہونے کی دعا کی اور بیان کیا ہے کہ جوانوں کا اس طرح کے دینی و عقیدتی مسائل کا خاص اہتمام کرنا و اس کے حصول کی کوشش کرنے پر تعجب کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ خداوند عالم کامیابی و کامرانی عنایت کرے گا ۔/۹۸۹/ف۹۷۳/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬