23 February 2018 - 18:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435135
فونت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے ہنگامی اجلاس میں شام میں تیس روزہ فائربندی کی مجوزہ قرارداد کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔
سلامتی کونسل

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سلامتی کونسل کا یہ اجلاس روس پر مغربی ملکوں کے دباؤ کے بعد ماسکو کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ مغربی ممالک کی کوشش ہے کہ شام کے علاقے غوطہ شرقی میں روس شامی فوج کو ہتھیار ارسال نہ کرے جہاں جبہہ النصرہ کے دہشت گردوں کا قبضہ ہے۔

کویت سوئیڈن اور فرانس نے اس اجلاس میں ایک مسودہ قرارداد پیش کیا تھا جس میں پورے شام میں آئندہ تیس روز کے لئے فائربندی کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن اس مسودہ قرارداد پر بعض ملکوں کے اعتراض کی وجہ سے ووٹنگ نہ ہوسکی۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئ ہے کہ قرارداد پر عمل درآمد کی کوئی ضمانت نہیں پیش کی گئی تھی۔

اس اجلاس میں سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بھی موجود تھے۔

شامی مندوب بشار جعفری نے اجلاس سے خطاب میں روس کی قدر دانی کی جس نے اس اجلاس کی تشکیل کی درخواست کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کی بدولت دمشق کو ایک بار پھر شامی عوام کے مصائب و آلام کو بیان کرنےکا موقع ملا ہے جو دہشت گردوں کی وجہ سے ان پر ہورہے ہیں۔

بشار جعفری نے شام میں دہشت گردوں کے لئے امریکا برطانیہ اور فرانس کی حمایت پر تنقید کی اور کہا کہ آج اسّی لاکھ باشندے دمشق میں زندگی بسر کررہے ہیں اورغوطہ شرقی سے آئے دن ان پر حملے کئے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے ان ملکوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے جو غوطہ شرقی میں جنگ بندی کا مطالبہ کررہے ہیں، کہا کہ ہزاروں تکفیری دہشت گرد اس علاقے میں موجود ہیں اور دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔

انھوں نے شام میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی اور غوطہ شرقی کو بھی اسی طرح آزاد کرائے گی جیسے حلب کو آزاد کرایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم ایسی حالت میں غوطہ شرقی میں تکفیری دہشت گردوں کی سرکوبی میں مصروف ہیں کہ امریکا، فرانس اور برطانیہ وسیع پیمانے پر ان دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویسیلی نبنزیا نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ شرقی میں، جنگ بندی کے مطالبے کو دہشت گردوں کو نجات دلانے کی کوشش سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ غوطہ شرقی میں دہشت گرد عام شہریوں سے انسانی ڈھال کے طور پر کام لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غوطہ شرقی میں آپریشن دہشت گردوں کے خلاف کیا جارہا ہے مگر مغربی میڈیا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ غوطہ شرقی میں صرف اسپتال ہیں اور شامی فوج بقول ان کے اسپتالوں پر حملے کررہی ہے۔

قابل ذکرہے کہ شام کے علاقے غوطہ شرقی میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آنے کے بعد دہشت گردوں کی حامی مغربی حکومتوں پر وحشت طاری ہوگئ ہے۔ /۹۸۹/ ف۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬