01 August 2018 - 14:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436753
فونت
ہندوستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی شہریت ختم کرنے پر کڑی نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔
مایا وتی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایا وتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تقسیم کرنے کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے آسام ریاست میں برسوں سے آباد مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی شہریت ختم کرکے نیا مسئلہ پیدا کردیا ہے جس کے سنگین نتایج بھگتنے پڑسکتےہیں۔

محترمہ مایاوتی نے کہا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کی پیر کے روز شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق ریاست آسام میں برسوں سے آباد 40 لاکھ سے زائد مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی شہریت ختم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نیا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس سلسلے میں اپنے سیاسی مفاد کے لئے مرکز اور آسام سرکار نے تنگ ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی)کے مسودے میں چالیس لاکھ سے زیادہ باشندوں کو شامل نہیں کئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سازش قرار دیا ۔

مشاورت کے صدر نوید حامد نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ اس اقدام کا مقصد ملک کے جائز باشندوں کو حق شہریت سے محروم کرکے پناہ گزین کے درجہ میں پہنچادینا اور ملک بھر میں فرقہ وارانہ گروہ بندی کو ہوا دینا ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬