06 November 2018 - 15:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437588
فونت
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر یورپ نے شدید تنقید کرتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یورپ یونین

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران مخالف دوسرے مرحلے کی امریکی پابندیوں پر جن میں خاص طور پر ایران کے تیل کو نشانہ بنایا گیا ہے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت یورپی یونین نے سخت منفی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کر کے ان پابندیوں کے نفاذ کے آغاز پرہی ان کی شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

اس بیان میں ایٹمی معاہدے کے مثبت نکات اور اس معاہدے کے لئے سلامتی کونسل کی تائید و حمایت کا ذکر کرتے ہوئے ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ بدستور ایٹمی معاہدے کی پابندی کرتا رہے۔

یورپی ملکوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمارا مقصد ان یورپی ملکوں اور کمپنیوں کی حمایت کرنا ہے جو قانونی طریقے سے ایران کے ساتھ تجارت کر رہی ہیں۔

یورپی یونین کے اقتصادی امور کے کمشنر پییر مسکوویسی نے پیر کو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ردعمل میں کہا کہ یورپی یونین ایران مخالف ان پابندیوں کے خلاف ہے۔

اس درمیان ایران کے ساتھ تجارتی امور میں برطانوی حکومت کے خصوصی ایلچی نورمن لامنٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا اپنی من مانی کر رہا ہے اور اس نے خودسرانہ طریقے سے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا اور اب اس نے ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں لیکن یہ ساری چیزیں عالمی برادری کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک منجملہ برطانیہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ مذکورہ برطانوی سیاستداں نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے یورپ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یورپ نے ایک قانون کی منظوری دے دی ہے جس میں امریکی پابندیوں کے مقابلے میں یورپی کمپنیوں کا ساتھ دیا جائے گا اور اس وقت وہ ایران کے ساتھ مالی امور کی انجام دہی کے لئے ایس پی وی نامی نیا اور خصوصی مالیاتی نظام تیار کر رہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے بھی اس سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ تجارتی تعاون کو فروغ دیئے جانے کی حمایت کرتا ہے۔

جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن زائیبرٹ نے بھی کہا ہے کہ برلین تہران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو باقی رکھنے کے لئے ضروری طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ وہ جرمن کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔

جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط کے لئے مختلف راستے اور طریقے ہونے چاہئیں۔

اس درمیان یورپی یونین میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر یورپی یونین کے ردعمل سے واشنگٹن کو قدرے مایوسی ہوئی ہے۔

بلومبرگ نے خبر دی ہے کہ یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سانڈ لینڈ نے کہا کہ میرے لئے یہ حیرت بات کی ہے کہ یورپی یونین ایران کو ایسے اشارے دے رہی ہے کہ جس سے وہ اپنے آپ کو محفوظ پا رہا ہے۔

یورپی یونین میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے رہنما ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے اس قدر مصمم اور پرعزم ہیں کہ بظاہر وہ ایسے اقدامات انجام دینے کے لئے بھی تیار ہیں کہ جو ایٹمی معاہدے کی عدم موجودگی کی صورت میں آزاد و خود مختار ملکوں کے لئے شاید قابل قبول نہ ہوں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬