02 December 2018 - 19:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437806
فونت
امام علی علیہ السلام کی محبت و معرفت کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، بلکہ ان کی عنایات کے بغیر انسانیت کا وجود ناقص و بے معنی ہے جس کے بغیر سازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں! اس عظیم ہستی کی فضیلت دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والے بیان کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں
فرقہ واریت

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امام علی علیہ السلام کی محبت و معرفت کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں، بلکہ ان کی عنایات کے بغیر انسانیت کا وجود ناقص و بے معنی ہے جس کے بغیر سازِ حیات کے سارے تار بیکار ہیں! اس عظیم ہستی کی فضیلت دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والے بیان کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر ایک ھندوستان کے نا اہل و جاہل سیاستدان نے اپنی جہالت و عدم علمی کا اعلان کرتے ہوئے اس حقیقی الہی نمائندے کا موازنہ افسانوی و تخیلاتی شخص سے کرا کر اپنے ناپاک وجود کا اعتراف کیا جو تمام صاحبان علم و با فہم کے لئے سراپا مذمت بن گیا ۔

ھندوستان میں فرقہ واریت و تشدد پسندانہ فکر و عمل کو فروغ دینے والی انسان دشمن حزب "بھارتیہ جنتا پارٹی" کا نالائق و حیوان مزاج شخص جس کی نظر میں بندروں کی اہمیت انسان سے بھی زیادہ ہے جو بندروں سے کھلواڑ کرتا ہے اور اس حد تک بندر سے وابستہ ہوا کہ دیکھنے میں خود بندر کا آئینہ بن گیا ہے ۔ بھلا ایسے حیوان کو انسان کامل کی کیا معرفت ہوگی ، اسے کیا معلوم کہ جس کے بغیر انسانیت کا وجود تو کیا کائنات کا وجود نامکمل ہے اس کی فضیلت و اہمیت کیا ہوسکتی ہے ؟ یہ تو وہ ہی جان سکتا ہے جو انسانیت کو جانتا ہو اور اس دنیا کے نشیب و فراز سے واقف ہو، بشریت سے دور حیوانی اصولوں پر زندگی بسر کرنے والا انسان ، اپنے ظلم و تشدد و حیوانی صفات کی بنا پر اپنے حلقہ حیوانیت سے مقام حاصل کرنے کی وجہ مادر وطن "ہندوستان" کا ایک صوبہ دار بن گیا ۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی حیوانیت نے گل کھلایا اور اس نے اپنی لا علمی و نا اہلی کا ثبوت دیتے ہوئے سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لئے امام علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کردی جس کی وجہ سے نہ مسلمان و صاحبان ایمان بلکہ تمام اقوام عالم نے اس کی اس حرکت کی سخت مذمت کی یہاں تک کہ خود ھندو حضرات نے بھی اس کی اس احمقانہ گفتگو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

ھندوستان ایک ایسی سرزمین ہے کہ جہاں ہمیشہ مختلف ادیان و مذاہب ، مختلف و منفرد آئیڈیالوجی کے ماننے والے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو دنیا کے تمام ممالک کے لئے انفرادیت کا حامل ہے اور اس ملک کی شناخت بھی اسی وجہ سے ہے ، مگر بعض ملک دشمن عناصر اس عظیم و نمایا شناخت کو ختم کر کے ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اور اس کو ماضی کی طرح پھر سے غیر ملکی سامراجی طاقت کا غلام بنانا چاہتی ہیں ۔

برسوں تک برطانیہ کی غلامی میں رہے اس عظیم ملک میں پائی جانے والی اتحاد و یکجہتی نے آزادی دلائی اور اس ملک کو انگریزوں کی طرف سے ہو رہے ظلم و بربریت سے نجات دلایا اور ھندوستانی کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا جس میں کثیر تعداد میں ھندو ، مسلمان ، عیسائی و۔۔۔۔ نے بلا تفریق مذہب و ملت اپنی جان کی بازی لگا کر انگریزوں کی غلامی کی زنجیر کو پارہ پارہ کردیا ۔

دشمن؛ اپنی شکست کی تحقیق سے اس نتیجہ پر پہونچے کہ اس ملک میں پائی جانے والی اتحاد و یکجہتی نے ہمیں ناکامی سے روبرو کیا اور ہمیں بہت بے آبرو ہو کر اس عظیم ثروت و دولت سے مالا مال سرزمین سے نکلنا پڑا ، ہم اپنی جیت کی خوشی منانے میں مشغول رہے مگر دشمن اپنی سازشی منصوبوں کو تیار کرنے میں مشغول رہے کہ جب تک یہ متحد رہیں گے دشمن کو ناکامی نصیب ہوتی رہے گی ۔ ہم نے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کر کے ان کی قربانی کو فراموش کر دیا اور جذبہ قربانی و ملک پرستی کو ذاتی مفاد میں بدل دیا ، ہر سال جشن آزادی منا کر چند لمحہ کے لئے خوش ہوگئے مگر دشمن کی طرف سے کی جا رہی سازش کو اپنی لا علمی کے اندھیرے میں گم کردیا اور ذاتی مفاد کے حصول میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے ملک کے مفاد کو نابود کرتے ہوئے فساد کا بازار گرم کردیا اور سب، برطانیہ کے لوٹ مار کے بعد بچی ملکی ثروت کی بندر بانٹ میں مشغول ہوگئے۔

دشمن نے اپنی شکست کے زمانہ سے ہی ایسے افراد کی شناخت کرلی تھی کہ کون میرے منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے، کون لوگ ہیں جو ھندوستان کے انقلاب میں انقلابیوں کا ساتھ نہ دے کر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لئے خاموش ہیں یا میری مدد کر رہے ہیں تو اس وقت ان کو ایک گروہ کی حمایت حاصل ہوئی جیسے جن سنگھ کے نام سے جانا جاتا تھا جنہوں نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا اور انقلابیوں کی جاسوسی کی اور یہاں تک کے ھندوستان آزاد ہونے کے بعد بابائے قوم مہاتما گاندھی کو شہید کر کے ھندوستان سے اپنے بغاوت کا اعلان کیا ۔

باغی گروہ نے اس وقت ہی بعض کم بصیرت افراد کی حمایت حاصل کر کے ملک کی سیاست میں نفوذ قائم کیا اور دشمن کی سازش پر عمل کرتے ہوئے ملک کو تباہ و برباد کرنے پر لگے رہے جس کی نمایاں دلیل اتحاد و یکجہتی کو پائمال کرنا اور ہندوستانیوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا ہے اور اس اختلاف میں لوگوں کو مشغول کر کے اپنے ذاتی مفاد حاصل کرنا اور دشمنوں کے راہ ہموار کرنا ہے ۔

ھندوستان کی بعض بھولی عوام آزادی و استقلال کی خوشی میں ماضی کی تمام صعوبتوں کو فراموش کرتی رہی اور اسے تا حیات الہی تحفہ سمجھ کر دشمن سے بے خبر ہوگئی اور دشمن نے اپنی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ملک میں اختلاف و تشدد پسندی کا بازار گرم کردیا ۔

وہ حزب جن سنگھ جو کبھی انگریزوں کی جاسوسی کرتی تھی اورھندوستان کی آزادی کے خلاف تحریک کا اہم حصہ تھی جس کی وجہ سے حکومت ھند کی طرف سے پابندی بھی عائد کردی گئی تھی مگر اس نے دشمن کی سازش کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے نئی پارٹی راشٹریہ سوویت سنگھ کے نام سے فعالیت شروع کی اور اس کی سیاسی بخش بھارتیہ جنتا پارٹی کے عنوان سے تخریب کاری شروع کردی ۔

دشمن کی تشدد پسندی و اختلاف و تقسیم کو فروغ دینے کی سازش کو پوری کرنے کے لئے ان حزبوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی کبھی بڑی اور چھوٹی ذات کا سہارا لیا تو کبھی ھندو مسلمان فساد کرایا تو کبھی گرجہ گھر کو جلایا تو کبھی مندروں میں بعض فرقہ پر پابندی لگائی اور ان اقدام سے ھندوستان کو کمزور کرنا شروع کیا تاکہ ھندوستان کی عوام مختلف حصہ میں تقسیم ہو جائے اور بیرونی ممالک طاقت پھر ھندوستان جیسے عظیم ملک پر تسلط قائم کرلے اور ھندوستان دوبارہ غلامی کی زنجیر میں جکڑ دیا جائے ۔

اسی دشمن کی سازش کو تکمیل کرنے کے لئے ھندوستان میں موجودہ برسر اقتدار بی جے پی حکومت اختلاف پھیلانے میں مشغول ہے جس کا واضح ثبوت یوگی ادتیہ ناتھ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں پر مفلوج انگلی اٹھایا تا کہ ھندو مسلم کے درمیان اختلاف و تنازعہ کا بازار گرم رکھ سکیں حالانکہ ان کو معلوم نہیں کہ جس کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں اس کی فضیلت بیان کرنے والا خود اس کا پروردگار ہے ۔

ادتیہ ناتھ کی اس حرکت نے ثابت کردیا کہ چاند پر تھوکنے والا اپنے چہرے کو ہی میلا کرتا ہے اور خود کو کثافت کا مجموع بنا لیتا ہے ۔ بہر صورت مسلمانوں کو چاہئے کہ ملک کو تقسیم و تباہ کرنے والی طاقت سے ہوشیار رہیں اور ان کی تمام سازشوں کو بصیرت کے ساتھ ناکام بنادیں تاکہ دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ /۹۸۹/ف۹۵۴/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬