10 March 2020 - 19:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442272
فونت
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریباً دو ماہ سے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد کی منصور علی پارک میں جاری پُرامن دھرنے میں خواتین کے حوصلے بلند اور جذبے مستحکم ہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریباً دو ماہ سے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد کی منصور علی پارک میں جاری پُرامن دھرنے میں خواتین کے حوصلے بلند اور جذبے مستحکم ہیں۔

اسی درمیان پولیس کی جانب سے مظاہرین پر مختلف دفعات کے تحت نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔

مظاہرین نے بتایا کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ طرح طرح کے ایف آئی آر کے ذریعہ ہمیں پریشان کر کے دھرنے کو ختم کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حد تو اس وقت ہوگئی جب نگر نگم نے پارک کو سرکاری املاک بتا کر اس پر دھرنا کے ذریعہ قبضہ کرنے کا ہم پر الزام لگایا اور اسے خالی کرنے کا نوٹس پارک کے دونوں دروازوں پر چسپاں کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ نوٹس میں لکھا تھا کہ ’پارک‘ عام شہریوں کے استعمال کے لئے ہے جبکہ مظاہرین سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر دھرنا دے رہے ہیں، جس سے عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب نقض امن کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا چنانچہ عوامی مفاد کے پیش نظر مظاہرین منصور علی پارک کو خالی کر دیں۔

اس کے علاوہ سیکڑوں نامزد مظاہرین اور نامعلوم افراد کے خلاف نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ایڈوکیٹ راگھویندر نے کہا کہ انتظامیہ مظاہرین کی حوصلہ شکنی کے لئے مختلف دفعات کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح ان کے بنیادی حقوق پامال کر رہا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پرطرفدارترین