18 June 2020 - 18:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442967
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی :
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر پاکستانی ریاست اور عوام اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مسئلہ فلسطین پر پاکستانی ریاست اور عوام اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کیوں ابہام کا شکار ہے ؟ڈپٹی سپیکر اور وزیر خارجہ کے بیانات میں تضاد ہے، وفاقی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا ہوگا ، وزیرخارجہ کا بیان قائد اعظم کے اصولی موقف کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ اس سے سامراجی عزائم کو تقویت ملنے کا تاثر جاتاہے ۔

ریاست پاکستان کا دوٹوک اور واضح موقف ہے کشمیر کشمیریوں کا اور فلسطین فلسطینی عوام کا ہے، کسی قابض کو اجارہ داری کی اجازت نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسرائیل سے متعلق قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے نکتہ اعتراض پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور وزیر خارجہ کی وضاحت پر کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ مسئلہ فلسطین کے حل اور اسرائیلی غاصب صیہونی ریاست کے حوالے سے پاکستانی ریاست اور عوام قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اسی اصولی موقف پر آج بھی قائم اور ڈٹے ہوئے ہیں کہ فلسطین کے بٹورے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اسرائیلی صیہونیت عالمی سامراجیت کی پشت پناہی سے اس مقدس سرزمین پر قابض ہوئی جب تک مقدس سرزمین کا قبضہ اس صیہونیت سے چھڑایا نہیں جاتا اور فلسطینی مظلوم عوام کو ان کاحق نہیں ملتا اس وقت تک یہ جدوجہد اور اخلاقی و ملی حمایت جاری رہے گی۔

انہوں نے کہاکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جو رولنگ دی گئی کہ پاکستان کسی صورت اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا پاکستان کے اصولی اور روزاول سے جاری پالیسی کے مطابق ہے البتہ وزیرخارجہ کی وضاحت نے وضاحت کی بجائے مزید ابہام پیدا کردیاہے جو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے اصولی موقف، پاکستان کی ریاستی پالیسی اور عوامی امنگوں کی ترجمانی نہیں کر تا اور وزیر خارجہ جیسے اہم عہدے پر متعین فرد کی جانب سے ایسے بیان نے نہ صرف ابہام پیدا کیا بلکہ یہ موقف پاکستان کی بجائے سامراج پسند قوتوں کو تقویت بخشتا ہے ۔

انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کشمیریوں کا اور فلسطین فلسطینی عوام کا ہے، سرزمین فلسطین پر کسی غیر کو بٹوارے کا کوئی حق نہیں، مسئلہ فلسطین کا حل فلسطینیوں کے استصواب سے ہی ممکن ہے، افسوس کچھ مسلم ریاستیں امریکہ کے ساتھ کھڑی ہیں جو اتنی کمزور کہ اب اپنے اصولی موقف پر بھی قائم رہنا ان کےلئے مشکل ہوگیا اور کچھ مسلم ممالک خاموش ہیں، حالیہ صورتحال میں امہ کو اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سامراج ،پاکستان سمیت مسلم امہ کا بھی خیرخواہ نہیں جس کی سب سے بڑی اور واضح مثال اس کی نام نہاد ”ڈیل آف سنچری“کے ذریعے مقدس فلسطینی سرزمین کے بٹوارے کا منصوبہ جوکہ رواں صدی کا اب تک سب سے بڑا دھوکہ ہے۔

کسی غیر فلسطینی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کریں، فلسطینیوں کی غیر موجودگی میں فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش سے بڑی جارحیت اور استعماریت کیا ہوگی؟ امہ کو اس صورتحال میں مختلف موقف اختیار کرنے کی بجائے یکساں اور اصولی موقف کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں