28 July 2020 - 02:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443289
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان:
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ حضرت ابوذرغفاری کا شمار عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے فرمایا:جناب ابوذر غفاری کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اطاعت پیغمبر اور محت آل پیغمبر میں بسر کی۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی راولپنڈی، اسلام آباد سے رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5 ذالحجہ صحابی رسول اکرم حضرت جندب ابن جنادہ ابوذرغفاری کے یوم وفات پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جناب ابوذر غفاری کے نظریات اور افکار اتنے پختہ تھے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اطاعت پیغمبر اور آل پیغمبر میں گزاری وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ سردار ان جنت حضرت حسنین ؑ کریمین آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے، آپ نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا۔

علامہ نقوی کا مزید کہنا تھا حضرت ابوذر غفاری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر خود خدمت پیغمبر اکرم کے پاس آکرا سلام قبول کیا اور انکی قدم بوسی کرکے انہوں نے رسول خدا کی قدر و منزلت اور فضلیت و مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا اور اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلان رسالت کے بعد اولین ایام میں جن مصائب و مشکلات سے مسلمان دوچار رہے ان کا جرات و بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں اور ختمی مرتبت کی حیات طیبہ میں ان کا دفاع و تحفظ اور ان کے رحلت کے بعد حق و صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا کہ حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی کے راوی قرار پائے ان کی عقیدت و وابستگی اور وفاشعاری کی بدولت رسالت کی جانب سے انہیں یہ سند امتیاز عطا ہوئی کہ ”زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پہ سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو“۔

انہوں نے کہا کہ پیغبر اکرم کی قربت کی وجہ سے پختہ نظریات کے حامل تھے ، سرمایہ داری کے حوالے سے وہ ایک خاص نقطہ نگاہ کے قائل تھے ،کسی محل کے گرد چکر لگا یا کرتے تھے اور ایک پڑھتے رہتے جس کا ترجمہ یہ کہ ”اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں در دناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روز وہ مال آتش جہنم میں تپایا جائے گا اس اسی سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائےگا) یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھ رکھا تھا لہذا اب اسے چکھ جسے تم جمع کیا کرتے تھے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ کہتے ہوئے کہ سورة توبہ آیت 34/35“جن سے ان کے نظریات پر اسلامی سکالرو ں نے متعدد کتابیں لکھیں ان میں سے ایک کتاب الاشتراکی الزاہد” سوشلسٹ پر ہیزگار“کے نام سے بھی شائع ہوئی ان کے نظریات کیلئے ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوذرغفاری کوحق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات جن میں سماجی بائیکاٹ، ظلم و ستم حتی کہ کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب جھیلنے پڑے اور اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ ربذہ کے مقام پر عالم مسافرت میں جان آفرین کے سپرد کردی اور آج بھی اس عظیم المرتبت صحابی رسول کو جلاوطن کرکے جس خطہ میں بھیجا گیا وہاں کے لوگ سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں