01 August 2020 - 13:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443337
فونت
حجت الاسلام والمسسلمین اشفاق وحیدی:
کانبرا آسٹریلیا کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ کربلا حج کے لیے مکمل تربیت گاہ ہے کہا: امت محمدی ص حج پرجانے سے پہلے کربلا سے ارکان حج کو یاد کریں۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، کانبرا آسٹریلیا کے امام جمعہ اور شیعہ علماء کونسل کے رہنما حجت الاسلام والمسسلمین اشفاق وحیدی نے آج عید الاضحی کے موقع پر آن لائن شیعہ کمیونٹی کو خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے کہا: فلسفہ حج کو سمجھنے کے لیے فلسفہ کربلا کو پہچاننے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ امام حسین(ع) نے حج کو عمرے میں تبدیل کر کے بیت اللہ کو حرمت سے بجا کر اللہ تعالی کے گھر کے مقام اور عظمت کو اجاگر کیا کہا: امت محمدی(ص) حج پر جانے سے پہلے کربلا سے ارکان حج کو یاد کریں۔

کانبرا آسٹریلیا کے امام جمعہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی سال بھی اللہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے سے ختم ہوتا ہے اور اسلامی سال کی ابتدا بھی قربانی سے ہوتی ہے زور دے کر کہا: اسلامی تاریخ میں دو میدان ہیں میدان منی اور میدان کربلا، ایک میں چھری رک جاتی ہے تو دوسرے میں چھری چل جاتی ہے، دونوں قربانیوں نے اسلام کو زندہ و جاوید کیا ۔

علامہ وحیدی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہ ایک قربانی جو کہ خانوادہ پیغمبر(ص) نے بقاء دین کے لیے پیش کی جب محرم میں اس کی یاد منانے کے لئے ہم نکلتے ہیں تو تکفیری عناصر کے فتوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے کہا: در حقیقت یہ وہی گروہ اور اسی نظریے کے لوگ ہیں جو دو نظریے کربلا میں تھے، ایک یزیدی فکر دوسری حسینی فکر، یزیدی فکر دشمن اسلام اور دشمن دین الہی ہے جس فکر کے ساتھ ھمیشہ جنگ اور قیامت تک اس کی نسل سے جنگ رہے گی ۔

انہوں نے مزید کہا: اس وقت دنیا ظلم و بربریت کی لپیٹ میں ہے طاغوت اور استعمار مختلف شکلوں میں انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے چاہے فلسطین ھو یا یمن کشمیر ھو یا بحرین عراق ھو یا افغانستان کو ئی خطہ بھی محفوظ نہی ہے
ان ممالک سے امریکی فوجوں کا انخلا ضروری ہے تاکہ عالم سلام میں امن قائم ہوسکے ۔/۹۸۸/ن


مراجع تقلید اور صدائے حوزہ کو دنیا تک پہچانے کیلئے ہمیں واٹساپ پر جوائن کریں !
https://chat.whatsapp.com/IuC6YqfGhBF7kwhasAqv9e

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬