06 August 2020 - 10:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443388
فونت
حجت الاسلام علامہ سید ساجد علی نقوی :
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ امام علی النقی علیہ السلام نے قرآن کی بنیادی حیثیت پر زور دیا اور قرآن ہی کو روایات کی کسوٹی اور صحیح اور غیر صحیح کی تشخیص کا معیار قرار دیا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام علامہ سید ساجد علی نقوی نے 15ذی الحج کو دسویں امام کی ولادت باسعادت کے موقع پر کہاکہ آپؑ امام ہادی کے نام سے بھی مشہور ہیں اور 34 برس تک امامت کے منصب پر فائز رہے۔

علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ آپ سے منقول احادیث کا زیادہ حصہ اہم کلامی موضوعات پر مشتمل ہے ۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام نقی ؑ کی امامت کا وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ کی بعثت کے اہداف و مقاصد اور امام ؑ کا ہم عصر معاشرے اور حکمرانوں کے درمیان بڑا فاصلہ حائل ہو چکا تھا اور آپؑ گھٹن کے اس دور میں رسول اللہ کے اہداف کے لئے کوشش کر رہے تھے اور اللہ کی عنایت خاصہ سے اس عجیب طوفان اور مبہم صورت حال میں کشتی ہدایت کو ساحل تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ۔

انہوں نے وضاحت کی : آپ نے ہدایت و ارشاد اور ابلاغ و تبلیغ کے عصری تقاضوں کو سامنے رکھ کر اسلام کے آفاقی معارف و تعلیمات کی نشر و اشاعت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مختلف روشوں اور مختلف فرقے اسلامی معاشرے کو گمراہ کرنے میں مصروف تھے اور بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ گویا امامت کا نظام مغلوب ہوچکا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آج امام ہادی ؑ کے گرانقدر آثار ہمارے درمیان موجود ہیں تو یہ اس تصور کے بطلان کی دلیل ہے۔ جو روشیں امام ؑاس دور میں اسلام کی آفاقی فکر پھیلانے میں بروئے کار لارہے تھے وہ بالکل منفرد اور اپنی مثال آپ تھیں۔

آپؑ نے قرآن کی بنیادی حیثیت پر زور دیا اور قرآن ہی کو روایات کی کسوٹی اور صحیح اور غیر صحیح کی تشخیص کا معیار قرار دیا۔قرآن کو ایک باضابطہ طور ایک ایسا متن قرار دیا کہ تمام اسلامی مکاتب فکر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

آپ ؑ نے مختلف علاقوں میں وکلاء تعیین کر کے اپنے پیروکاوں سے رابطے میں رہے اور انہی وکلاء کے ذریعے مسائل کو بھی حل و فصل کیا کرتے تھے۔ زیارت جامعہ کبیرہ جو حقیقت میں امامت سے متعلق عقائد کے عمدہ مسائل اور امام شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے، آپؑ ہی کی یادگار ہے۔

ائمہ اطہار ؑ کا علم سر چشمہ و علم الہٰی سے تعلّق رکھتا ہے اسی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوا کرتے ہیں اور کسی میں جرئت نہیں ہوتی تھی کہ علمی میدان میں ان کا مقابلہ کر سکے اور جو شخص بھی سامنے آتا تھا وہ آخر کار شکست کھا جاتا تھا اور اپنی کم علمی کا اعتراف کرلیتا تھا۔

امام علی نقی علیہ السلام تقریبا 29 سال مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے آپ نے اس مدت عمر میں کئی حکمرانوں کا زمانہ دیکھا تقریبا ہر ایک نے آپ کی طرف رخ کرنے سے احتراز کیا یہی وجہ ہے کہ آپ امور امامت کو انجام دینے میں کامیاب رہے آپ کی کرامات بے شمار ہیں ۔

آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہاآپ ؑ کی نماز جنازہ امام حسن ؑ عسکری نے ادا کی اور تدفین سامرہ میں ہوئی۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬